خطبات محمود (جلد 11) — Page 474
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء اگر مٹ بھی جاتا تو اور وجود کھڑا ہو سکتا تھا اس طرح خدا تعالٰی کے نور کو وہ نہیں مٹا سکتے تھے ان کی مثال اس بچے کی تھی کہ جو تاریک کمرہ میں آنے والی سورج کی شعاع کو پکڑنا چاہتا ہے اور اس پر ہاتھ رکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اسے پکڑ لیا لیکن جب ہاتھ اٹھاتا ہے تو شعاع وہیں ہوتی ہے۔یہی مثال ان کی تھی۔وہ اس جگہ کو ہی پکڑ سکتے تھے۔لیکن کیا جہاں دھوپ پڑ رہی ہو وہاں سے مٹی اکھاڑ دینے پر وہاں شعاع پڑنی بند ہو جائے گی۔اس مٹی کو ہٹانے سے شعاع نیچے پڑے گی اور وہ ہٹا دینے سے اور نیچے پڑنے لگ جائے گی۔پہلے بھی کئی نادانوں نے ایسی غلطیاں کیں۔انہوں نے سمجھا عمر کا وجود ہی نور ہے حالانکہ عمرہ اس مقام کی طرح تھا جس پر سورج کی شعاع پڑ رہی تھی۔انہوں نے اسے مٹا دیا اور سمجھا شعاع مٹادی لیکن وہی شعاع پھر عثمان پر پڑنے لگ گئی۔انہوں نے اسے مٹا دیا تو وہی شعاع پھر علی پر پڑنے لگی۔اور جب اسے بھی مٹا دیا تو پھر وہ شعاع روحانی طور پر دنیا میں پھیل گئی اور دنیا کے ہر گوشہ میں ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اجمعین کے ظل پیدا ہو گئے۔دنیا کے جس خطہ میں بھی تم چلے جاؤ تمہیں وہاں کسی نہ کسی بزرگ کی قبر ضرور ملے گی۔یہ بزرگ کون تھے انہیں لوگوں کے گل تھے۔نادانوں نے اس نور کو ایک جگہ سے مٹایا خدا نے اسے ہزاروں جگہ قائم کر دیا اور اس وقت تک وہ نور قائم رہا جب تک لوگوں نے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا اللہ تعالٰی فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُفَتِرُ مَا بِقَوْمِ حَتَّى يُغَيِّرُ وا مَا بِا نُفُسِهِمُ (الرعد (۱۲) خدا تعالی کسی قوم سے کوئی نعمت نہیں چھینتا جب تک وہ خود اپنی حالت میں تغیر نہ کر لے۔جب مسلمانوں نے اس نور کے استحقاق کو کھودیا خدا نے بھی اس نعمت کو ان سے چھین لیا۔پھر ہزاروں گدیاں قائم ہو گئیں اور لوگوں نے نور پیدا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن چونکہ خدا تعالی اس نعمت کو چھین چکا تھا اس لئے لوگوں کے پیدا کرنے سے پیدا نہ ہو سکا۔حتی کہ پھر خدا نے ایک انسان کو بھیجا جسے حقیقی عزت عطا کی۔پس کوئی انسان کسی کو عزت نہیں دے سکتا۔عزت کمالات سے پیدا ہوتی ہے اور وہ خدا ہی پیدا کرتا ہے۔گورنمنٹ رائے بہادر تو بنا سکتی ہے لیکن بہادر نہیں بنا سکتی۔بہادری خدا ہی کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح چوب تک خدا تعالیٰ کسی کو اپنی کتاب کا نم نہ دے اپنے علم سے اسے حصہ نہ دے ، رحم و شفقت اسے عطا نہ کرے اسے کون بڑا بنا سکتا ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کسی کو بڑا بنا دے تو اس سے بڑائی کون چھین سکتا ہے۔لوگ اگر اسے گالیاں بھی دیں تو بھی کیا ہوتا ہے۔کہتے ہیں کبوتر جب بلی کو دیکھتا