خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 473

خطبات ۴۷۳ سال ۶۱۹۲۸ تعالی کے ہی اختیار میں ہے۔مگر افسوس کئی نادان جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تعلیم کو سنا آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، آپ کی مجالس کی برکات مشاہدہ کیں ، آپ کو آنکھوں سے دیکھا، آپ کے جسم کو چھوا ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی یا اس کی گونج پڑی کہ میں نے ہی اسے عزت دی ہے اور میں ہی اسے ذلیل کروں گا۔وہ آواز جس زور سے اٹھی تھی اور جو بھیانک صورت اس نے اختیار کی تھی اور جو تاریکی اس آواز کے ساتھ پھیلی تھی وہ ایسی نہ تھی کہ اتنی جلدی بھول جائے۔پھر جہاں انہوں نے یہ آواز سنی تھی ان کی آنکھوں نے یہ نظارا بھی دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے باطل کی اس ہیبت کو توڑ دیا۔اور وہ بلند و بالا دیو جن کے سر آسمان پر اور پیر زمین پر نظر آتے تھے انہیں کس طرح باریک کیڑوں کی شکل میں دکھایا مگر وہ اس بات کو بھول گئے کہ عزت وذلت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔انہوں نے نفسانیت خود غرضی ، غضوں اور کینوں سے متاثر ہو کر پھر یہ چاہا کہ خدا تعالی کا اختیار چھین لیں۔انہوں نے اپنے نفوس کو یہ مرتبہ دے دیا کہ جسے چاہیں عزت دے دیں اور جسے چاہیں ذلیل کر دیں لیکن اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پیاری اپنی توحید ہے۔وہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے لیکن شرک معاف نہیں کرتا۔اس کی غیرت کب برداشت کر سکتی تھی کہ وہ برائی جسے اس نے مٹایا تھا پھر اسے اتنی جلدی قائم ہونے دے۔لوگوں نے چاہا کہ عزت دینا اپنے ہاتھ میں لے لیں لیکن خدا نے نہ چاہا کہ وہ ایسا کر سکیں۔اس نے خود جسے چاہا عزت دی۔اس پر وہ ابلیس جو ہمیشہ سے انسان کو ورغلاتا آیا ہے اس نے ان کے قلوب پر قبضہ کیا اور کہا تم ناری وجود ہو یعنی روشن اور چمکتے ہوئے ہو تم ایک تاریک وجود کی اطاعت کیسے کر سکتے ہو۔انہوں نے اس کی بات تسلیم کرلی اور افسوس شیطان کی آواز میں اپنی تباہی کو نہ دیکھا اور نہ سوچا کہ یہ آواز ناری ہے جو اپنے وجود کو بھی جلا دیتی ہے۔وہ تمام کمالات جو خدا سے نہیں ہوتے وہ ناری ہوتے ہیں اس لئے انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔نوری وہی ہیں جو خدا سے آئیں۔انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ ان کے کمالات ناری اور کسی ہیں۔اللہ تعالیٰ جن سے کام لینا چاہتا ہے انہیں نوری کمالات عطا فرماتا ہے۔وہ آسمان سے فیض یافتہ ہوتے ہیں اور خدا سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور دنیا کو روشن کرتے ہیں۔اور آسمان سے آنے والی چیز بندہ کے اختیار میں نہیں ہوتی مگر انہوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور لمبے عرصہ تک یہی کوشش کرتے رہے کہ جس چیز کو خدا تعالٰی نے قائم کیا ہے اسے مٹا دیں۔اس کے لئے انہوں نے ہر انسانی تدبیر اختیار کی۔وہ جسے مٹا سکتے تھے وہ انسانی وجود تھا وہ