خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 458

خطبات محمود ۴۵۸ ۵۹ سال ۶۱۹۲۸ درس القرآن سننے والے اس سے فائدہ بھی اٹھائیں (فرموده ۳۱/ اگست ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالٰی اگر چاہے گا تو آئندہ ہفتہ میں قرآن کریم کا درس جو اس ماہ میں شروع ہوا تھا ختم ہو جائے گا۔ہماری جماعت کے سینکڑوں دوست مختلف اوقات میں اور مختلف مقامات سے اس میں شمولیت کی غرض سے قادیان آئے۔ایک جماعت تو ایسی ہے جو مستقل طور پر یہاں رہی ہے ماکہ پورا درس سنے اور فائدہ اٹھائے اور کچھ دوست ایسے تھے جو پوری فرصت تو نہیں نکال سکے اور چند دن بعد اگر شامل ہوئے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو شامل تو شروع میں ہو گئے تھے مگر انہیں دوران درس میں ہی جانا پڑا۔بہر حال سینکڑوں کی تعداد میں دوست اس غرض سے باہر سے آئے اور یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ اس نے قرآن سننے اور سمجھنے کی محبت ہماری جماعت میں پیدا کر دی ہے۔ان گرمی کے دنوں میں جب کہ ایک دوسرے کے پاس بیٹھنا بھی سخت تکلیف دہ ہوتا ہے ایسی حالت میں آپ لوگ باوجود اس کے کہ آرام اور سہولت کے بہت کم سامان میسر تھے پیٹھ سے پیٹھ ملا کر اور پہلو سے پہلوں گا کر ہر روز ظہر سے شام تک بیٹھتے رہے۔صرف نماز کے لئے درمیان میں وقفہ ہوتا۔دنیا میں بہت سے جلسے ہوتے ہیں اور ایسے جلسوں میں تو جن میں دین کی باتیں بیان ہوتی ہیں لوگوں کے لئے جانا بھی دوبھر ہوتا ہے اور جا کر وہاں بیٹھنا تو اور بھی دو بھر ہوتا ہے۔پچھلے سال میں شملہ میں تھا اور میں نے ان قومی لیڈروں کو دیکھا جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ رات دن قوم کے غم میں گھلے جا رہے ہیں۔شملہ جیسے سرد مقام میں اور اسمبلی ہال میں جہاں ہر قسم کی سہولتیں اور ناشتہ وغیرہ کے انتظام کے ہوتے ہوئے اکثر غیر حاضر رہتے پھر جو