خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 372

خطبات محمود ۳۷۲ سال ۶۱۹۲۸ انہیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔اس شرط کے ماتحت خواہ وہ اپنا نصف مال دے دے یا تین چوتھائی دے دے مگر اتنا دے کہ جن لوگوں کی پرورش اس کے ذمہ ہے وہ دوسروں کے محتاج نہ ہو جا ئیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ایک ذریعہ رکھا ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنے کا۔جس وقت آپ نے یہ طریق بیان کیا اسی وقت یہ بھی لکھ دیا تھا و ممکن ہے کہ بعض آدمی جن پر بد گمانی کا مادہ غالب ہو وہ اس کارروائی میں نہیں اعتراضوں کا نشانہ بنا دیں۔اور اس انتظام کو اغراض نفسانیہ پر مبنی سمجھیں یا اس کو بدعت قرار دیں۔لیکن یاد رہے کہ خدا تعالیٰ کے کام میں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ہے چنانچہ مخالفین نے اس پر ہنسی اور تمسخر کیا اور کہا پاک ٹین کے بہشتی دروازہ کی طرح یہ بہشتی مقبرہ بنایا گیا ہے حالانکہ اس دروازہ اور بہشتی مقبرہ میں بہت فرق ہے۔اپنے مال کی وصیت کرنا علامت ہے نیکی اور تقویٰ کی۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اقرار چاہتا تھا کہ اس کا کوئی ظاہری ثبوت ہو اس کی علامت وصیت رکھی گئی اور یہ دائی قربانی ہے۔یعنی جب تک انسان زندہ رہتا ہے اسے یہ قربانی کرنی پڑتی ہے مگر دروازہ سے گذر جانا تو معمولی بات ہے اس کے لئے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔تو وصیت معیار ہے مؤمنوں کے ایمان کو پرکھنے کا مگر باوجود اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زور دینے کے بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تک اس کی عظمت سے واقف نہیں ہیں۔اور جس طرح قاعدہ ہے کہ جب کوئی نیا نظام قائم ہوتا ہے اور نیا مسئلہ جاری ہوتا ہے تو اکثر لوگ اس کے سمجھنے میں کو تاہی کرتے ہیں اسی طرح بہت سے لوگوں نے وصیت کے معاملہ کی حقیقت کو بھی نہ سمجھا بلکہ انہوں نے بھی نہ سمجھا جن کے سپرد اس کا نظام کیا گیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی ایسی وصیتیں کی گئیں کہ ایک شخص کی ماہوار آمدنی تو کئی سو کی تھی مگر اس کا مکان بہت معمولی حیثیت کا تھا اس نے مکان کی وصیت کر دی اور لکھ دیا کہ اس کا ۱/۱۰ حصہ وصیت میں دیتا ہوں۔حالانکہ اگر اندازہ لگایا جاتا تو مکان کا جو حصہ وصیت میں دیا گیا وہ اتنی مالیت کا بھی نہیں تھا کہ ماہوار آمدنی کا نبیسواں (۳۲) حصہ ہی بن سکتا۔میں نے اس کی اصلاح کی میں نے کہا مقبرہ بہشتی کی غرض یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگوں کو جمع کیا جائے جو دین کو دنیا پر