خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 371

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء انہوں نے اسے معاف کر دیا اور اپنے ہاں آنے کی اجازت دے دی اور اس کے لئے خاص طور پر صدقہ کرتیں مگر بار جود اس کے حسرت کے ساتھ کہتیں معلوم نہیں میں نے جو اقرار کیا تھا وہ پورا ہوا ہے یا نہیں۔میں نے صدقہ کی تعیین کیوں نہ کردی۔تو بہت سے لوگ حیران تھے کہ انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو اقرار کیا ہے وہ پورا ہوا ہے یا نہیں تب خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بتایا کہ جو لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا اقرار پورا ہوا یا نہیں ان کے لئے یہ وصیت کا طریق ہے اس پر عمل کرنے سے وہ اپنے اقرار کو پورا کر سکتے ہیں کیونکہ وصیت میں شرط ہے کہ خدا تعالٰی کا ارادہ ہے کہ ایسے کامل الایمان ایک ہی جگہ دفن ہوں تا آئندہ نسلیں ایک ہی جگہ ان کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں"۔پس یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ طریق پر وصیت کرے اور اس پر قائم رہے مگر کامل الایمان نہ ہو۔تو وہ لوگ جن کے دل میں عدم اطمینان تھا اور وہ اس وجہ سے بے چین تھے کہ خبر نہیں ان کا اقرار پورا ہوا ہے یا نہیں ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام کے ماتحت یہ رکھ دیا کہ وہ وصیت کریں۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:- میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اس کو بہشتی مقبرہ بنا دے۔اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خواب گاہ ہو جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا۔اور دنیا کی محبت چھوڑ دی۔اور خدا کے لئے ہو گئے۔اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی۔اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلا یا “ سے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ وصیت کرنا اور اس پر قائم رہ کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو نا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اقرار کو پورا کرنا ہے۔اس وصیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے حد بندی کر دی ہے۔اور وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ ۱/۳ حصہ کی وصیت کی جائے اور کم از کم 1/10 حصہ کی۔یہ تو مرنے کے بعد کے متعلق ہے اور زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالٰی کی راہ میں انسان اس حد تک خرچ کر سکتا ہے کہ وہ رشتہ دار جو اس کے ذریعہ پل رہے ہوں