خطبات محمود (جلد 11) — Page 330
خطبات محمود ۳۳۰ سال ۶۱۹۲۸ خود معمولی بیماری سمجھ کر ایک دفعہ روزے رکھے تو قریباً سارا سال بخار ہوتا رہا اور یہ سمجھا گیا کہ گردوں میں نقص پیدا ہو گیا ہے۔حضرت خلیفہ اول اس وقت مذاق کے طور پر فرماتے اور روزے رکھو۔خود اپنا واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول سناتے کہ ایک دفعہ آپ کو دست آنے کی تکلیف ہو گئی مگر پھر دست بند ہو گئے اس پر آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔کوئی تین چار دن ہی رکھے ہوں گے کہ معلوم ہوا مردمی کی قوت نہیں رہی اس کے لئے کئی قسم کی دوائیاں استعمال کی گئیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر آپ نے دوائیاں چھوڑ دیں اور استغفار کیا تب جا کر فائدہ ہوا۔تو اصل طریق یہی ہے کہ وعظ و نصیحت سے لوگوں کو سمجھایا جائے پھر اگر کوئی شرارت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا۔لیکن اگر کوئی شرارت نہیں کرتا بلکہ جائز عذر رکھتا ہے تو ہمیں اس کے متعلق بدظنی کرنے کا گناہ ہو گا اور ہمیں اس بارے میں پوچھا جائے گا۔پس ہمارے لئے بہترین صورت یہی ہے کہ اگر کوئی عذر پیش کرتا ہے تو سمجھیں کہ واقعی معذور ہے۔یہ شریعت کا مسئلہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا اگر کوئی جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھتا حالانکہ روزہ اس کے لئے فرض ہے تو خدا کے سامنے وہ جواب دہ ہو گا۔ہم نے مسئلہ بیان کر دیا اور حقیقت کھول دی ہے۔اب ہر ایک کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔اگر کوئی گناہ کرے گا تو سزا پائے گا اور اگر عمل کرے گا تو اجر پائے گا۔پس میں جہاں ان لوگوں کو جن پر روزہ رکھنا فرض ہے اور جنہیں کوئی شرعی عذر پیش نہ ہو یہ نصیحت کروں گا کہ وہ ضرور روزہ رکھیں۔وہاں یہ بھی کہوں گا کہ اگر کوئی اپنے آپ کو معذور ظاہر کرتا ہے تو اس کے متعلق بدظنی نہیں کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس کے عذر کو دور کرے اور اسے روزہ رکھنے کی توفیق دے۔میں اپنا ہی اس سال کا تجربہ بتاتا ہوں۔جب روزے شروع ہوئے تو چونکہ مجھے کئی بیماریاں لگی ہوئی ہیں۔میں نے اپنے جسم کے متعلق اندازہ کر کے دیکھا کہ کچھ روزے رکھ سکتا ہوں سارے نہیں۔اور چونکہ مجھے طب کا بھی مطالعہ ہے اس لئے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ دو روزے رکھ کر ایک چھوڑ دوں۔کچھ دن میں نے اس پر عمل کیا اور میرا یہ اندازہ صحیح نکلا۔اس کے بعد خیال آیا کہ تین دن روزہ رکھوں اور ایک دن نہ رکھوں۔اس کے مطابق جب میں نے روزے رکھے تو تیسرے دن سر درد کا ایسا شدید دورہ ہوا کہ ایک کی بجائے تین روزے