خطبات محمود (جلد 11) — Page 316
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ بندیوں کا خیال بھی رکھنا چاہئے۔جس بات سے شریعت روکتی ہے اس کو کرنے والا خدا تعالٰی سے دور ہو جاتا ہے۔مثلاً شریعت بیمار کو روزہ رکھنے سے روکتی ہے اب اگر کوئی مریض روزہ رکھے تو وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بجائے اس سے دور ہو گا۔اسی طرح عید کے دن روزہ رکھنے والے کو رسول کریم ﷺ نے شیطان قرار دیا ہے۔جس طرح جو شخص قادیان آنے کے لئے اس سڑک پر جو قادیان کو آتی ہے نہیں چلتا وہ قادیان نہیں پہنچ سکتا اسی طرح وہ شخص بھی جو قادیان آنے والی سڑک پر تو چلے مگر کہیں کھڑا نہ ہو بلکہ چلتا ہی جائے وہ بھی قادیان نہیں پہنچ سکے گا۔پس وہ شخص جو شریعت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے اور وہ جو اس کے بتائے ہوئے راستہ پر تو چلتا ہے مگر اس کے بتائے ہوئے مقام پر ٹھہرتا نہیں دونوں خدا تعالٰی کو نہیں پاسکتے۔شریعت کے احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے خصوصیت سے میں ایک نصیحت رمضان کے لئے کرتا ہوں۔آج کل رسول کریم ﷺ پر حملے ہو رہے ہیں۔ابھی دو تین دن ہوئے میں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ راجپال کی کتاب پھر ہندی میں شائع کی گئی ہے۔جب شریر اپنی بدی اور شرارت میں بڑھ رہے ہیں تو مؤمن کے لئے ہر گز مناسب نہیں کہ وہ نیکی اور وفاداری میں پیچھے رہے بلکہ اس کو بھی چاہئے کہ محبت میں ترقی کرے۔محبت اور دشمنی دو طاقتیں ہیں جن میں سے محبت زبردست ہے۔دنیا میں کوئی برے سے برا آدمی ایسا نہیں جو ہر وقت دشمنی ہی میں مشغول رہے مگر کروڑوں مائیں ایسی ہیں جو ہر وقت محبت سے بھری رہتی ہیں۔اگر دشمن دشمنی جاری رکھ سکتا ہے تو محبت والے اپنی محبت کیوں جاری نہیں رکھ سکتے جبکہ محبت کا جاری رکھنا بہ نسبت دشمنی کے زیادہ آسان ہے۔اگر ہم کو رسول کریم ﷺ سے محبت ہے تو یہ دشمن کی دشمنی پر غالب ہونی چاہئے۔چونکہ یہ خدا تعالٰی کی برکات کے نزول کے ایام ہیں اس لئے ان ایام میں خصوصیت سے اس زمانہ کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول کریم ﷺ پر درود بھیجے جائیں۔یہ ہماری دعاؤں کی قبولیت کا بھی ذریعہ ہو گا کیونکہ کسی کے عزیز سے پیار اور محبت رکھنے والا بھی اس کو عزیز ہو جاتا ہے۔پس کثرت کے ساتھ درود پڑھیں تاکہ رسول کریم ﷺ کے فیوض زیادہ سے زیادہ دنیا پر نازل ہوں اور اسلام کی ترقی ہو۔چونکہ آج دیر ہو گئی ہے اس لئے خطبہ کو ختم کرتا ہوں گو بظاہر یہ مختصر ہے مگر عمل کے لحاظ سے یہ مختصر نہیں بلکہ نہایت اہم ہے۔(الفضل ۶ / مارچ ۱۹۲۸ء)