خطبات محمود (جلد 11) — Page 315
خطبات محمود ۳۱۵ ۴۲ سال ۱۹۲۸ء رمضان المبارک کے فیوض فرموده ۲۴ فروری ۱۹۲۸ء) تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالٰی کے فضل سے ہم میں سے بہت سے جو پچھلے سال رمضان کی برکات سے حصہ لینے والے تھے انہیں پھر ایک بار موقع دیا گیا ہے کہ وہ رمضان کے فیوض سے فائدہ حاصل کریں۔اسلام اس بات کا قائل نہیں کہ شریعت لعنت ہے اگر شریعت لعنت ہو تو اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔اسلام اس امر کا قائل ہے کہ شریعت ہدایت اور رحمت ہے اور کوئی عقل مند شخص رحمت سے بچنے کی کوشش نہیں کیا کرتا۔ہاں اگر لعنت ہو تو بے شک ہر عظمند کا فرض ہونا چاہئے کہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔مسلمانوں میں غفلت کے باعث جہاں عیسائیوں اور یہودیوں کی کئی غلط باتیں ان میں داخل ہو گئی ہیں وہاں یہ خیال بھی پیدا ہو گیا کہ شریعت لعنت ہے۔اور بڑے بڑے علماء اس کوشش میں تھے کہ شریعت کے ہر حکم سے بچنے کے لئے کوئی حیلہ تلاش کریں چنانچہ انہوں نے کتاب الحیل تصنیف بھی کی جس میں بتایا کہ فلاں حیلہ سے فلاں حکم ٹالا جا سکتا ہے اور فلاں سے فلاں۔شریعت خدا تعالیٰ سے ملاقات کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور کوئی عقل مند دنیا میں ایسا نہیں جو کسے کہ مجھے کوئی ایسا حیلہ بتاؤ جس سے میں اپنی ماں یا اپنی بیوی یا اپنی بہن سے نہ مل سکوں۔پھر ایسے انسان کی فطرت کس قدر گندی ہوگی جو خدا تعالٰی سے ملاقات کے راستہ سے بچنے کے لئے خیلے ڈھونڈتا پھرے یعنی اس بات کی کوشش کرے کہ وہ کسی طرح خدا کے قریب نہ پہنچ جائے۔پس شریعت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے۔اور مبارک ہے وہ انسان جسے احکام شریعت پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔مگر جہاں شریعت کے احکام کی تعمیل ضروری ہے وہاں اس کی حد