خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 311

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء مهستی ام - من پیر زال محنتی ام یعنی میں وہ نہیں ہوں جس کی جان نکالنے کے لئے تم آئے ہو۔اس کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی وہ ہے اس کی جان نکال لو۔غرض یا تو وہ دعائیں مانگتی تھی کہ اس کی بیٹی بچ جائے اور اس کی بجائے وہ خود مر جائے۔مگر جب اسے خیال آیا کہ ملک الموت آگیا ہے تو ساری محبت بھول گئی اور اسے معلوم ہو گیا کہ لڑکی سے اسے ایسی محبت نہیں ہے جیسی وہ خیال کرتی تھی۔تو انسان بسا اوقات خیال کرتا ہے کہ اسے خدا کا قرب حاصل ہے مگر دراصل حاصل نہیں ہوتا۔ہندوؤں میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں انہیں خدامل گیا ہے مگر یہ صرف ان کا وہم ہوتا ہے تھوڑے دن ہوئے کچھ ہندو فقیر میرے پاس آئے۔میں نے ان سے پوچھا تم کو کچھ حاصل بھی ہوا ہے یا نہیں۔کہنے لگے پالیا ہے۔میں نے کہا کیا پالیا کہنے لگے جی بس پالیا ہے اور جب پالیا تو پھر کیا کا سوال ہی نہ رہا۔اس قسم کی باتیں کرتے رہے۔مگر یہ نہ بتا سکے کہ انھوں نے کیا پالیا ہے۔پس ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ انہیں خدا مل گیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے ملنے کے کوئی آثار ان سے ظاہر نہیں ہوتے۔اسی طرح کئی آدمی خیال کرتے ہیں کہ انہیں تقویٰ حاصل ہو گیا ہے مگر جب معاملہ کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو تقویٰ حاصل ہوا ہے یا نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کا تاریخی واقعہ موجود ہے۔انجیل میں آتا ہے ان کا ایک شاگرد تھا جو اتنا مقرب تھا کہ ان کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ نے اس وقت بتایا اور انہوں نے اس کا اظہار کر دیا کہ مجھے پکڑوانے والا تم میں سے ہی ایک ہو گا۔اس وقت اس شاگرد نے جو حضرت عیسی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور ایک ہی برتن میں ایک دفعہ اس کا ہاتھ پڑتا تھا اور ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام کا۔اس نے کہا کیا کوئی ایسا کم بخت ہو سکتا ہے جو آپ کو پکڑوائے حضرت عیسی نے کہا ہاں ہو سکتا ہے مگر وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ یہ نہیں ہو سکتا یہ ممکن نہیں۔مگر جب وہ وہاں سے کھانا کھانے کے بعد اٹھا اور یہ پیشگوئی سن کر اٹھا تو باہر جاکر تھیں (۳۰) روپے پر اس نے حضرت عیسی کو پکڑوا دیا۔کہ جب وہ کھانا کھا رہا تھا اس وقت اس نے جو کچھ کہا وہ جھوٹ نہیں کہہ رہا تھا وہ بچ بچ خیال کرتا تھا کہ کوئی شاگرد ایسا نہیں ہو سکتا مگر تمھیں روپے جب اس کے سامنے آئے تو انہیں دیکھ کر پھسل گیا اور اس نے اپنے آقا کو پکڑوا دیا۔حضرت خلیفہ اول ایک مولوی کا قصہ سناتے جس نے ایک شادی شدہ لڑکی کا نکاح دوسری جگہ پڑھا دیا۔آپ نے اسے ملامت کی کہ تم نے یہ کیا کیا وہ کہنے لگا مولوی صاحب آپ ملامت