خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 293

خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۲۸ء نمازیں پڑھتا ہے تو کہتا ہے محض دکھاوے کی نمازیں پڑھتا ہے غرض ہر بات میں عیب گیری کرنا اور دل میں بغض و کینہ رکھنا یہ لڑائی ہے جو مومن نہیں کرتا کیونکہ مومن کا دل بغض اور کینہ کا حامل کبھی نہیں ہو سکتا۔جب کسی کے دل میں کسی سے بغض پیدا ہو تو وہ خیال کرے کہ ضرور اس کے ایمان میں نقص آگیا ہے کیونکہ ناممکن ہے کہ بغض اور ایمان ایک جگہ جمع ہوں۔یہ خطبہ ہے جس میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے دن چونکہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ ہم اکٹھے ہیں اور ایک ہیں۔خدا تعالٰی فرماتا ہے ایک ہونے کے لئے یہ باتیں پائی جانی چاہئیں اگر یہ نہیں پائی جاتیں تو تم اکٹھے نہیں اور نہ ایک ہو تمہارا اکٹھا ہونا منافقت ہے۔وہ لوگ جو اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق بغض رکھتے اور ساری جماعت پر اتمام لگاتے ہیں وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ جماعت خدا تعالی کی طرف سے ہے میں یہ برداشت کرہی نہیں سکتا کہ کوئی جماعت پر الزام لگائے۔میری عادت نہیں کہ مجلس میں کسی فرد کو مخاطب کر کے غصہ کا اظہار کروں مگر جب کوئی جماعت پر الزام لگاتا ہے تو پھر میں برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک الہی سلسلہ ہو اور اس کے اکثر افراد گندے ہوں۔اگر اکثر افراد گندے ہیں تو وہ سلسلہ جھوٹا ہے اور اس طرح خدا تعالی پر اعتراض پڑتا ہے کہ اس نے ایک گندے شخص کو اپنے سلسلہ کی باگ سپرد کر دی اور یہ الحمد للہ کے بالکل خلاف بات ہے۔پس جمعہ کے خطبہ میں یہی بتایا گیا ہے کہ تم خود یہ مظاہرہ کرتے ہو کہ ہم ایک ہیں مگر کیا تمہارے دل بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ تم ایک ہو۔اگر تم ایک دوسرے کی عیب چینی کرتے ہو۔اگر جماعت کے لوگوں کو گندا سمجھتے ہو تو پھر تم اکٹھے بیٹھنے سے ایک نہیں ہو سکتے۔کیا اگر میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ایک ہو جائیں گے۔ایک ہونے کے لئے دلوں کا اتحاد ضروری ہے۔پس رسول کریم ﷺ نے یہ خطبہ بتایا ہے جس میں ایک آیت بھی لی ہے اور بتایا ہے کہ ظاہری اجتماع کے ساتھ دل بھی اکٹھے ہونے چائیں۔دوسروں کی عیب چینی چھوڑ دینی چاہئے۔دو سروں پر اتکال چھوڑ دینا چاہئے۔اس طرح بھی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جب کوئی شخص سمجھتا ہے کہ فلاں نے میرا کام کرتا تھا اور جب وہ نہیں کرتا تو ناراض ہو جاتا ہے۔اگر وہ یہ سمجھتا کہ خدا تعالی نے ہی میرا کام کرنا ہے تو کسی کے متعلق اسے ناراضگی نہ پیدا ہوتی۔عام طور پر لڑائی دو طرح سے ہی ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ فلاں میں یہ عیب ہے دوسرے اس طرح کہ فلاں نے