خطبات محمود (جلد 11) — Page 263
خطبات محمود ۲۶۳ ۳۵ اَعُوذُ اور بسم اللہ پڑھنے میں نکتہ فرموده ۳۰/دسمبر۱۹۲۷ء) سال 1927ء تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : رسول کریم ﷺ کی سنت تھی کہ خطبہ پڑھنے سے پہلے آپ استعاذہ اللہ کیا کرتے تھے یعنی اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پڑھا کرتے۔اس کے بعد بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کی تلاوت فرماتے۔ایک مسلم کے لئے رسول کریم ﷺ کا یہ طریق اپنے اندر حکمت رکھنے سے خالی نہیں ہو سکتا اور جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو اس میں اسلامی زندگی کا نمونہ اور فلسفہ پاتے ہیں۔در حقیقت اگر غور کیا جائے تو یہ رسول کریم اے کا اپنا بتایا ہوا طریق نہیں بلکہ خدا تعالی کا ارشاد فرمودہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔جب قرآن پڑھنے لگو تو اعوذ پڑھ لیا کرو۔اور قرآن بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ سے شروع ہوتا ہے۔اس طرح یہ قانون قرآن کریم سے ہی نکل آیا کہ پہلے اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پڑھنا چاہئے۔اور پھر بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ جب کوئی مسلمان چھوٹی سے چھوٹی سورہ بھی پڑھے گا۔تو اس حکم کے ماتحت پہلے اعوذ پڑھے گا اور پھر بِسمِ الله الرحمن الرحیم۔پس قرآن کریم سے یہ قانون معلوم ہو گیا کہ وہ تمام کام جو انسان کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ان کے کرنے سے پہلے اعوذ اور پھر بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔الفاظ کے لحاظ سے اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان شیطان سے پناہ مانگے اور اللہ تعالٰی سے مدد چا ہے۔لیکن مؤمن صرف الفاظ پر ہی نہیں رہا کرتا بلکہ ہربات کے فلسفہ کو دیکھتا ہے۔اور اس کی حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے۔اگر ہم اس طریق کی ترتیب اور اس کے فلسفہ کو دیکھیں۔تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک ایسی بات بتائی گئی ہے جو دنیا کا عام