خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 235

خطبات محمود ۲۳۵ سال 1927ء مظلومیت کے واقعات بڑے موثر ہوتے ہیں۔عیسائیوں کو دیکھو حضرت مسیح کی مظلومیت انیس سو سال سے ان کو قوت اور طاقت دے رہی ہے۔اسی طرح شیعوں کو دیکھو۔حضرت امام حسین کی شہادت نے ان کو کس قدر تقویت دی ہے۔اگر یہ واقعہ نہ ہو تا تو ان کو یہ ترقی حاصل نہ ہو سکتی۔تو مظلومیت کی حکائت کمزور قوم کو بھی طاقت ور اور زبر دست بنادیتی ہے پس یہ واقعات جو ہوئے اسلام کے لئے مضر اور ہندوؤں کے لئے مفید ہیں۔کسی نے کہا ہے خدا مجھے نادان دوستوں سے بچائے۔میں مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کو حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھیں تاکہ آئندہ کسی اور کو جرات نہ ہو۔ہاں جب تک جرم ثابت نہ ہو اس وقت تک چھوڑ دینا غداری ہے۔کیونکہ ممکن ہے ملزم بے گناہ ہو اس نے جرم نہ کیا ہو اس وقت ہمدردی اور امداد سے انکار کرنا قومی غداری ہے اگر انہوں نے خود مدد نہیں مانگی تو پھر مدد دینے والوں کا قصور نہیں۔لیکن مدد مانگنے پر مدد نہ دینے والے ضرور قصور وار ہیں۔اور اگر انہوں نے مدد مانگی نہیں تو پھر یہ فخر کرنا کہ ہم نے ان کو مدد نہیں دی یہ نادرست ہے۔لیکن جب جرم ثابت ہو گیا اس وقت یہ کہنا کہ سزا سخت ہے ناجائز ہے۔میرے نزدیک سزا اور سخت دینی چاہئے تھی۔تاکہ آئندہ لوگ ایسے جرائم نہ کریں۔یہ بات اسلام کے لئے مفید اور ہندوؤں کے لئے مضر ہے۔جتنی سزا ہو گی اتنی ہی ہندوؤں کے لئے مضر ہو گی۔کیونکہ اس طرح ان کا غصہ کم ہو جائے گا کہ انتقام لے لیا گیا۔مگر ہمارے لئے مفید ہوگی۔میں ہر طرح اخلاقی طبعی۔سیاسی اور تمدنی طور پر غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بزدلوں سے ایسے افعال ہوتے ہیں کوئی بہادر اور دلیر انسان ایسا نہیں کرتا۔اس لئے ایسے لوگ سختی سے ڈر بھی جلدی جاتے ہیں اور ان کے ڈرنے سے یہ فائدہ ہو گا کہ ایسے واقعات نہ ہوں گے پس اسلامی نقطہ نگاہ سے تو ہم یہی کہیں گے کہ اور بھی زیادہ سزا ہو۔باقی قانون جو سزا دے سکتا ہے حکام اتنی ہی دیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی مسلمانوں کو توفیق دے کہ وہ اسلام کی خدمت ایسے مستقل طریق سے کریں۔جس میں تزلزل نہ واقعہ ہو۔ان کا استقلال اور ثبات نہ جائے۔وہ ایسے کاموں میں دخل نہ دیں جو شریعت کے خلاف ہوں۔انہیں اتنا تو سوچنا چاہئے۔کیا شریعت ہمیں بے بس چھوڑ دے گی اور اسلام بغیر ہتھیار چھوڑ دے گا۔ہر جرم کو روکنے کے لئے اسلام میں شرافت اور امن کے ساتھ استعمال کرنے والے ذرائع موجود ہیں۔مثلاً تمدنی ترقی کا ذریعہ ایسا ہے کہ اس سے ہم اس قوم کی آنکھیں کھول سکتے ہیں جو ہمارے مذہب پر ناپاک حملے کرتی ہے۔اپنے ذرائع کو چھوڑ