خطبات محمود (جلد 11) — Page 234
خطبات محمود سال 1927ء قانون کی رو سے یا گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت تو اس صورت میں سزا کو سخت نہیں کہیں گے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جرم ثابت نہیں پھر سزا کیوں دی گئی لیکن جب جرم ثابت ہو جیسا کہ میرے نزدیک یہاں ثابت ہے (میں یہ نہیں کہتا کسی اور کے نزدیک بھی ثابت ہے یا نہیں تو پھر ضروری ہے کہ سزا سخت ہو۔بلکہ ایسے لوگوں نے چونکہ اسلام کو بد نام کیا ہے اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اور بھی سخت ہو۔ان لوگوں نے نہ صرف اسلام کو بد نام کیا ہے بلکہ ان کے افعال کا ایک اور نہایت خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے مسلمان ڈر گئے ہیں اور انہوں نے وہ جد و جہد چھوڑ دی ہے جو اپنی اصلاح اور ترقی کے لئے شروع کی تھی۔اور جس کی بنیاد میرے ذریعہ پڑی تھی۔مسلمان اسے چھوڑ بیٹھے ہیں۔ان واقعات کو دیکھ کر کہ مسلمان پکڑے گئے اور ان کو سزائیں ملیں۔کمزور طبائع یونی ڈر گئی ہیں کہ ہم بھی کہیں پکڑے نہ جائیں۔اور کسی مصیبت میں پھنس نہ جائیں۔ورنہ جو امن کے ساتھ رہتا اور خود حفاظتی کرتا ہے اسے کون پکڑ سکتا ہے۔اور کون سزا دے سکتا ہے۔اور اسے ڈرنے کی کیا وجہ ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ دشمنی اور عداوت کی وجہ سے بے گناہ بھی پکڑے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو اس طرح پکڑنے کی وہ لوگ کوشش کریں گے جن کو مسلمانوں کی جائز جدوجہد سے نقصان پہنچے گا اور جن کے وہ فوائد بند ہو جائیں گے جو مسلمانوں سے حاصل کرتے تھے۔میں نے دیکھا ہے۔اگر کوئی زمیندار کسی کی زمین پر پانچ چھ سال قابض رہے اور جب زمین والا اس سے زمین مانگے تو غصہ اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔مگر ہندوؤں نے تو سینکڑوں سال سے مسلمانوں کے حقوق اور اموال پر قبضہ کیا ہوا تھا۔وہ اب کیوں ناراض نہ ہوں گے۔مگر اس سے مسلمانوں کو ڈرنا نہیں چاہئے لیکن جیسا کہ مجھے اطلاعیں پہنچ رہی ہیں مسلمان اب ڈر گئے ہیں اور خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ یونہی گورنمنٹ پکڑ کر انہیں جیلوں میں ڈال دے گی۔گورنمنٹ بھی انسانوں پر مشتمل ہے اور وہ بھی غلطی کر سکتی ہے۔مگر یہ بھی تو ہے کہ گورنمنٹ میں سب راجپال نہیں بیٹھے ہوئے۔بہر حال قانون موجود ہے ایک غیر قوم حکمران ہے جو عقلمند ہے۔معاملات کی تہ تک پہنچ سکتی ہے۔بے شک گورنمنٹ کے محکموں میں ہندوؤں کا رسوخ ہے۔ان کی کثرت ہے۔مگر ہر معاملہ کی تحقیقات ہو گی ثبوت پیش کئے جائیں گے۔ان حالات میں مسلمانوں کے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔مگر کمزور طبائع بھی ہوتی ہیں۔وہ ڈر گئی ہیں۔اس طرح ان مجرموں نے اس کام میں روک ڈال دی ہے۔اور اس کے مقابلہ میں اپنے افعال سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔بلکہ ہندوؤں کو فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے اس کی