خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 184

خطبات محمود ۱۸۴ سال 1927ء کہتے ہیں۔کہ انہیں خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ انہوں نے خدا پر توکل کیا ہوا ہے جن کاموں میں ان کو لذت محسوس ہوتی ہے وہ تو کبھی نہیں چھوڑتے۔کھانے پینے کی چیزیں میاں بیوی کے تعلقات آرام و آسائش کے سامان کبھی نہیں چھوڑتے۔اور ان کے متعلق کبھی تو کل نہیں کرتے۔اگر تو کل کے وہی معنی ہیں جو وہ بتاتے ہیں تو کیوں جائدادیں نہیں چھوڑ دیتے۔مال و دولت کیوں باہر نہیں پھینک دیتے۔ان سب باتوں میں تو کل اختیار نہیں کرتے۔لیکن جہاں محنت کرنی پڑتی ہے وہاں تو کل لے بیٹھتے ہیں تھے پر جب منہ مارتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو کل انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں کہ خدا آپ ہی آپ کام کر دیگا۔جب پانی پیتے ہیں۔یا کپڑا پہنتے ہیں۔یا عیش و آسائش کے سامان سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو انہیں یہ تو کل بھول جاتا ہے۔روپیہ جب کسی سے لینے کا سوال آجائے تو اس کے پیچھے پڑ جائیں گے۔لیکن جہاں لوگوں کے فوائد کا تعلق ان سے آپڑے تو کہیں گے۔جہاں سے اچھی چیز ملے وہاں سے لے لینی چاہئے۔اسی طرح جہاں خریدنے کا سوال آئے گا تو کہیں گے کہ ہم نے خدا پر توکل کر کے مال خریدا ہے۔لیکن جب بیچنے کا وقت آئے گا تو کہیں گے سب لوگ ہم سے ہی خریدیں۔یہ تو کل نہیں بلکہ سستی اور غفلت ہے اور اس طرح اپنی بدنامی کی بجائے خدا کو بد نام کیا جاتا ہے جہاں کام خراب ہو وہاں کہہ دیا جاتا ہے ہم نے یہ کام خدا کے سپرد کر دیا تھا۔اور جہاں کام اچھا ہو وہ اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں۔پس معلوم ہوا ایسے لوگ اپنے کاموں کو خدا تعالٰی کے سپرد نہیں کرتے۔ورنہ اگر خداتعالی کے سپرد کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کام کے متعلق خود کچھ نہ کیا جائے تو وہ اپنے کاموں میں خود کیوں کوشش اور سعی کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ ایک وفد آیا۔آپ نے ان میں سے ایک شخص سے دریافت کیا۔(چونکہ آپ کھلی جگہ بیٹھے ہوئے تھے شاید آپ نے دیکھ لیا ہو۔اس لئے پوچھا) تم نے اونٹ کا کیا انتظام کیا ہے ؟ اس نے کہا خدا پر توکل کر کے یوں ہی چھوڑ آیا ہوں۔آپ نے فرمایا جاؤ پہلے اس کا گھٹنا باند ھو پھر خد اتعالیٰ پر توکل کرو( ترمذی ابواب القیامہ ہے پہلے اپنی طرف سے پوری تدبیر کرد اور پھر کہو خدا پر توکل کیا ہے۔پس رسول کریم ﷺ نے خود تو کل کے معنے بتا دیے کہ پوری تدبیر کے بعد خدا پر بھروسہ کرنے کا نام تو کل ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کے سپرد کام کر دیا۔اور اس کے یہ معنے نہیں کہ خود کام کرنا چھوڑ دیں۔تو پھر اس کے کیا معنے ہوئے۔اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالی کے سپرو جو کچھ کیا جاتا ہے وہ کام کا انجام اور