خطبات محمود (جلد 11) — Page 183
خطبات محمود ۱۸۳ سال 1927ء کہ دو لاکھ روپیہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کس حد تک گر چکے ہیں۔اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ تو کل ان میں نہیں ہے بیسیوں جگہ سے درخواستیں آرہی ہیں کہ مسلمان دکامیراروں کی ضرورت ہے۔ایک علاقہ میں پانچ سو دکانوں کی ضرورت ہے۔مگر وہاں کے لئے مسلمان دکاندار ملتے نہیں۔اپنی جماعت کے لوگ نہیں شیعہ سنی وہابی۔چکڑالوی غرض کوئی مسلمان کہلانے والا ہو اس کی ہم مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر مسلمانوں کو اتنی ہمت نہیں پڑتی کہ وہاں جا کر دکان کریں۔بھوکے مر رہے ہیں۔فاقے جھیل رہے ہیں۔ان کے مکان اور زمینیں بک چکی ہیں۔بے حد مقروض ہو چکے ہیں۔مگر یہ نہیں کہ دوسرے علاقہ میں جاکر کچھ کاروبار کریں۔کوئی تجارت کریں۔میں اس وقت کی تحریک کے مطابق خیال کرتا ہوں کہ چار پانچ ہزار مسلمان دکانیں کھول سکتے ہیں۔اور ایک سو روپیہ تک کی پونجی لگا کر پچیس تیس چالیس روپیہ ماہوار کما سکتے ہیں۔مگر مسلمانوں میں یہی خیال بیٹھا ہوا ہے کہ خدا نے رزق دینا ہو گا تو اپنے گھر میں ہی دے دے گا کسی دوسری جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے۔اور اسے وہ تو کل کہتے ہیں۔حالانکہ یہ محض ستی اور کم ہمتی کی وجہ سے ہے۔تو کل میں سستی نہیں ہو سکتی۔دیکھو ایک مایوس مریض کو کسی قابل ڈاکٹر کا پتہ لگ جائے تو اس کے لواحقین اس کے آگے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں۔اور جو کچھ وہ بتاتا ہے بڑی چستی اور ہوشیاری سے کرتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کو ایک اعلیٰ درجہ کا وکیل مل جائے تو وہ جو کچھ کہے اس کی نہایت سرعت اور ہوشیاری سے تعمیل کی جاتی ہے۔مگر خدا کے سپرد کام کرنے کا یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ انسان کو خود کچھ نہیں کرنا چاہئے۔مگر یہ تو کل نہیں بلکہ عدم تو کل ہے۔اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے توکل کے معنی سمجھے نہیں۔جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو تین پہلو یہ اپنے اندر رکھتا ہے۔اول یہ کہ اپنے کاموں کو پورے طور پر کسی کے سپرد کر دیتا۔دوم یہ کہ اس کی بتائی ہوئی تدابیر پر کامل طور پر عمل کرنا۔اسے اپنا سہارا بنا لینا۔اور جو وہ کہے اسے اختیار کرنا۔سوم یہ کہ یقین رکھنا کہ ان تدابیر پر عمل کر کے ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔یہ تین حصے تو کل کے ہیں اور یہ تین شرطیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ان تینوں معنوں کے لحاظ سے دیکھ لو۔ان میں ستی غفلت یا کام کو چھوڑ دینا کہاں پایا جاتا ہے ؟ تو کل میں پہلی بات یہ ہے کہ پورے طور پر کام سپرد کر دیتا۔اب وہ لوگ جو کہتے ہیں چونکہ ہم نے خدا پر تو کل کیا ہے اس لئے خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ کھانا کیوں کھاتے ہیں۔کپڑے کیوں پہنتے ہیں۔اپنی دوسری ضروریات کیوں خود پورا کرتے ہیں۔انہوں نے باقی کو نسا کام چھوڑ دیا ہے کہ قومی ترقی اور قومی بہتری کے متعلق وہ