خطبات محمود (جلد 11) — Page 128
خطبات محمود ۱۲۸ سال 1927ء ہے تو ہندو کیوں مسلمانوں سے چھوت چھات نہیں ترک کر دیتے۔اگر وہ ایسا کریں تو میں ابھی اعلان کرنے کے لئے تیار ہوں۔دوسرے مسلمان میری بات مانیں یا نہ مانیں احمدی ضرور مانیں گے کہ ہندوؤں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدنے سے پرہیز نہ کریں۔پس اگر ہندو مسلمانوں سے ایسی چیزیں خریدنے لگ جائیں۔تو میں اسی دن اپنی جماعت کو ان کی چیزیں خریدنے کی اجازت دے دوں گا۔دیکھو آسان بات ہے ہم اپنے گھر کچھ ہندوؤں کی دعوت کرتے ہیں وہ کھا جائیں۔ہم اسی وقت ان کے ہاں کا کھانا کھانے کے لئے تیار ہوں گے۔اسی طرح مسلمان دوکانداروں سے ہندو کھانے پینے کی چیزیں خریدیں۔ہم اسی وقت ان سے خرید نا شروع کر دیں گے۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور پھر فساد ہو گا تو ان کی طرف سے ہی ہو گا۔مگر میں کہتا ہوں اسے فساد کی تعلیم قرار دینا غلطی ہے۔سات سو سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہندوؤں نے مسلمانوں سے چھوت چھات جاری رکھی۔ان سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خریدیں۔مگر مسلمان ان سے نہیں لڑے۔اب اگر مسلمان بھی ہندوؤں سے ایسی چیزیں نہ لیں تو پھر ہندو کیوں فساد کریں گے۔غور تو کرو اگر مسلمان ہندوؤں سے چیزیں خریدنا چھوڑ دیں گے تو فساد کون کرے گا۔یہ فساد ہندوؤں ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے۔مسلمان جب ان کی دوکانوں پر جائیں گے ہی نہیں تو فساد کیا کریں گے۔پس میں ہندوؤں سے کہوں گا۔بھائی ! سات سو سال سے تم نے ہم سے چھوت چھات کی اور ہماری چیزوں کو ناپاک سمجھا مگر ہم نے فساد نہ کیا۔اب اگر ہم بھی تم سے نہ خرید میں تو تم کیوں فساد کرتے ہو۔اور ابھی تو مسلمانوں نے اس پر عمل شروع ہی نہیں کیا۔ہماری جماعت میں بھی اس کے متعلق ستی پائی جاتی ہے۔اور دوسروں میں تو بہت ہی سستی ہے۔مگر یہ بات ہی غلط ہے کہ اس وجہ سے فساد پیدا ہو سکتا ہے۔۲۴ کروڑ جو ہندو کہلاتے یا سمجھے جاتے ہیں انہوں نے مسلمانوں سے سینکڑوں سال سے نہ خریدا تو فساد نہ ہوا۔اب مسلمانوں کے نہ خریدنے سے کس طرح فساد ہو سکتا ہے۔جن کے متعلق ہندو افسروں کی رپورٹوں اور سرکاری رپورٹوں سے ثابت ہے کہ صرف پنجاب میں ایک ارب کے قریب ان پر قرضہ ہے۔ایسی حالت میں کیا مسلمانوں کو اپنی زندگی کی کوئی تدبیر نہیں کرنی چاہئے۔اور ہمیشہ کے لئے ہندوؤں کا ظلم برداشت کرتے رہنا چاہئے۔تب امن قائم ہو سکے گا۔میں بڑے زور اور دعوئی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس تجویز سے کوئی فساد نہیں پیدا ہو سکتا۔اور جو مسلمان اس پر عمل نہیں کرتا وہ اپنی قوم پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے۔ہاں جو ہندو ہمارے ہاتھ کی چیزیں کھالے ہم اس کے ہاتھ سے کھا سکتے ہیں۔یہ اعلان کئے ہوئے دو تین سال ہو گئے ہیں۔لیکن جو ہماری اشیاء کھالیتے