خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ سال 1927ء سے اور سات سو سال سے مسلمانوں سے یہی سلوک کرتے چلے آرہے ہیں۔اگر اس عرصہ میں اس وجہ سے فساد اور جھگڑا نہیں ہوا۔بلکہ اس کی بجائے یہ ہوا کہ کروڑوں روپیہ ہندوؤں کے گھر مسلمانوں کے ہاں سے پہنچتا رہا۔تو اب اگر ان مسلمانوں کو جن کا خون چوس چوس کر ہندوؤں نے کنگال کر دیا ہے۔جن کی زمینیں خود خرید لی ہیں اور جو قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ایسی گرمی ہوئی حالت میں نیہ بتایا جائے کہ اس طرح کرو تو یہ فساد کا موجب کس طرح ہو سکتا ہے۔کیا ایک غریب اور مرنے کے کنارے پہنچی ہوئی قوم کے لئے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی خاطر اپنے اموال کو بچانا نا جائز ہے۔لیکن ایک مالدار قوم کے لئے اپنے خزانے بھرنے کے لئے یہی بات جائز ہو جاتی ہے۔کوئی عقل سے کام لے کر بتائے۔مسلمانوں کو کھانے پینے کی چیزیں ہندوؤں سے نہ خریدنے کے لئے کہنے سے فساد کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔کروڑوں روپیہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر ہندوؤں کے گھروں میں چلا جائے۔اور وہ مسلمانوں کے ہاتھ کی پکی ہوئی چیزیں نہ خریدیں تو وہ فسادی نہیں بنتے۔لیکن جب مسلمانوں کو ان کی گری ہوئی حالت کی وجہ سے بتایا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تو کہا جاتا ہے فتنہ و فساد پھیلایا جاتا ہے۔اگر یہ فتنہ و فساد ہے تو ہند و پہلے اسے اپنے گھر سے کیوں دور نہیں کرتے۔سب سے زیادہ حق انسان پر اس کی بھلائی کا ہوتا ہے پھر کیوں مضمون نگار صاحب ہندوؤں میں تحریک نہیں کرتے کہ وہ مسلمانوں سے کھانے پینے کی چیزیں خرید کریں اگر وہ اپنی قوم کو تو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے چھوت اور زیادہ سختی کے ساتھ کرو۔تو پھر مسلمان ہندوؤں سے چھوت کرنے لگیں تو ان کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہو سکتا ہے۔علاقہ ملکانہ میں آریوں نے چماروں اور دوسری ادنیٰ اقوام سے کہا۔ہم تمہیں ہندو بنالیں گے تم صرف مسلمانوں سے چھوت چھات شروع کر دو۔ان کے ہاتھ کی کوئی چیز نہ کھاؤ۔اگر ہندو بھنگیوں اور چماروں کو یہ تعلیم دیں تو اس سے فتنہ پیدا نہیں ہوتا۔لیکن اگر مسلمانوں سے یہ کہا جائے کہ ہندوؤں کے ہاتھ کی چیزیں نہ خرید و تو اس سے فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔آخر کچھ تو انصاف سے کام لینا چاہئے خواہ کوئی کتنا ہی تعصب میں مبتلا ہو۔اتنی موٹی بات تو ضرور سمجھ سکتا ہے کہ ہندو جو ۲۴ کروڑ سمجھے جاتے ہیں۔وہ تو مسلمانوں سے جو صرف سات کروڑ ہیں۔چھوت چھات کریں تو کوئی فتنہ نہ ہو اور چوہڑوں چماروں سے کہیں مسلمانوں کے ہاتھ کا نہ کھاؤ تو فساد نہ ہو۔سینکڑوں سالوں سے مسلمانوں کے ہاتھ کی چیز کو ناپاک قرار دیں تو کوئی بد امنی نہ ہو۔لیکن اگر مسلمانوں کو ان کی مظلومی اور بے کسی کی حالت میں کہا جائے کہ تم بھی ہندوؤں کے ہاتھ کی چیزیں نہ کھاؤ تو اس سے فتنہ پیدا ہو۔اگر اس وجہ سے فتنہ پیدا ہوتا