خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 116

خطبات 14 سال 1927ء وہی لوگ جو زندگی میں مخالف تھے۔تعریف کرنے کے لئے مجبور ہو گئے۔ذاتی اغراض کی وجہ سے زندگی میں تو مخالفت کرتے رہے۔لیکن جب آپ فوت ہوئے تو بے اختیار ان کے مونہوں سے نکل گیا کہ آپ اسلام کے لئے ایک قلعہ تھے جو اسلام کی حفاظت کر رہے تھے۔اب لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ ہم سے دشمنی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے ہم سے دشمنی کرتے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود کے اخلاق ، آپ کے کام اور آپ کی قربانی کی وجہ سے آپ کے متعلق ان لوگوں کے دل جن کی زبانیں بد زبانی سے پر تھیں۔شکر گزاری اور احسان مندی سے پُر ہو گئے۔اور آپ کی وفات پر انہیں یہ اعتراف کرنا پڑا کہ اسلام کا ایک بہت بڑا جرنیل فوت ہو گیا تو پھر کیا وجہ ہے اگر ہم بھی ان کے لئے حقیقی قربانی کریں۔تو وہ ہم سے محبت کرنے نہ لگ جائیں۔پس اپنے اخلاق میں ایسی تبدیلی پیدا کرو کہ دنیا کے محبوب بن جاؤ۔اپنے آپ کو اس طرح فنا کردو کہ دنیا تمہارے ذریعہ زندہ ہو جائے۔اگر تم اپنے لئے اس طرح موت قبول کر لو کہ دنیا زندہ ہو جائے تو دشمنوں کی نظروں میں بھی محبوب ہو جاؤ گے اور اپنوں اور خدا تعالیٰ کی نظر میں تو بہت ہی محبوب بن جاؤ گے۔لیکن جب تک اپنے اندر خاص اصلاح اور تبدیلی نہ پیدا کرو۔اور ایسی قربانی اختیار نہ کرو جس سے لوگوں کو زندگی حاصل ہو۔اس وقت تک نہ اپنوں میں معزز سمجھے جاؤ گے نہ بیگانوں میں۔پس اے دوستو ان واقعات سے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہو رہے ہیں۔اگر تم میں جوش پیدا ہو تا ہے تو اس سے اپنے معاملات ، عادات اخلاق اور نفوس کی اصلاح کا کام لو۔اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کے دین کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کر و۔اس کے شعائر سے ایسا عشق دکھاؤ کہ اس عشق کی آگ ان سب اشیاء کو جلا کر راکھ کر دے جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے میں حائل ہوں۔اگر تم دنیا کی بہتری اور بھلائی کے لئے اس قدر کوشش کرو گے۔تو لوگ اتنے اندھے نہیں ہیں کہ تمہاری قربانیاں دیکھ سکیں اور تمہاری قدر نہ کرنے لگ جائیں۔خدا تعالیٰ تمہیں تو فیق دے کہ تم پہلی مستیوں اور کوتاہیوں کو ترک کر کے اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو کہ خدا تعالیٰ جلد اسلام اور احمدیت کو فتح دے۔کنز العمال جلد ۱۶ صفحه ۴۶ حدیث نمبر ۴۵۴۳۹ مطبوعه حلب الفضل ۲۷ / مئی ۱۹۲۷ء)