خطبات محمود (جلد 11) — Page 101
خطبات محمود سال 1927ء ہوگی کہ فوج میں قد کے چھوٹے ہونے سے حرج واقعہ ہو تا تھا۔مگر شادی کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔پس اصل بات انسان یہی دیکھتا ہے۔کہ جو کام وہ کرنے لگا ہے اس میں کسی کا اختلاف کہاں تک حارج ہوتا ہے۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ مسلمانوں میں جو اختلاف ہے۔اس کا ہمارے تعلقات پر کس قدر اثر پڑتا ہے۔مثلاً شیعہ سنی کا اختلاف ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔کیونکہ امام مقتدیوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کے حضور درخواست پیش کرتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جائیں۔اب اگر شیعہ کے نزدیک سنی غلط عقائد رکھتا ہے یا سنی کے نزد یک شیعہ غلط عقائد رکھتا ہے۔تو وہ کس طرح پسند کرے گا کہ اپنی دعا کی درخواست ایسے شخص کے سپرد کرے جس کے عقائد ہی اس کے نزدیک غلط ہیں۔وہ تو یہی کہے گا کہ میں اپنی درخواست اس کے ذریعہ پیش کروں گا جس کے عقائد میرے نزدیک درست ہیں۔تاکہ وہ منظور ہو سکے۔اور اس کا یہ کہنا بالکل جائز ہو گا۔کیونکہ اگر کسی کا مقصد بالکل صحیح ہو گا۔تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے زیادہ قبول ہوگی۔اگر اس کے عقائد میں تھوڑا نقص ہے تو کم قبول ہو گی۔اور اگر بالکل غلط عقائد رکھتا ہے تو بالکل قبول نہ ہو گی۔چونکہ اس اختلاف کا اثر انسان کے فوائد اور اس کی آخرت کی زندگی پر پڑتا ہے۔اس لئے اگر کوئی شیعہ سنی کے پیچھے اور سنی شیعہ کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔تو کسی کو حق نہیں کہ ان کو برابھلا کہے۔اگر ایک کے نزدیک دوسرے کے عقائد غلط ہیں۔تو ان کا حق ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ای طرح رشته ناطہ کا معاملہ ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ ہم میں عقائد کا اختلاف ہے۔اور لڑکی خاوند کے تابع ہوتی اور اس کا اثر قبول کرتی ہے۔اس لئے میں ایسے شخص کو نہیں دوں گا جس کے عقائد کو میں صحیح نہیں سمجھتا۔تو یہ بالکل جائز ہو گا کیونکہ اس اختلاف کا اثر رشتہ کے معاملہ میں ضرور پڑتا ہے۔اس وجہ سے لڑکی والے کا حق ہے کہ کہہ دے کہ فلاں کو لڑکی نہ دوں گا۔کیونکہ اس کے عقائد کو میں درست نہیں سمجھتا اور اس کے مذہب سے مجھے اختلاف ہے۔پس جس حد تک مذہب کے اختلاف کا اثر معاملات پر پڑتا ہے اس حد تک اس کا قائم رکھنا ضروری ہے کیونکہ مذہب کی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔مذہب کی قربانی کا مطالبہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ خدا کی محبت کو دل سے نکال دیا جائے۔اگر کوئی شخص مذہب کی قربانی کرتا ہے تو یقیناً خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص خیال کرے کہ فلاں بات