خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 93

93 اعتراضات کئے جاتے ہیں۔تو وہ کب تک برداشت کرتی جائے گی۔بہت سے لوگ ہوں گے جو قتل ہو جانا برداشت کر لیں گے۔لیکن یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ان کے امام پر بے ہودہ اعتراضات کئے جائیں اور اسے برا بھلا کہا جائے۔میں پوچھتا ہوں۔اگر واقعہ میں غیر مبایعین صلح کے خواہشمند ہیں اور نیک نیتی سے ایک دوسرے کے خلاف لکھنا بند کرنا چاہتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ ہماری طرف سے خاموشی اختیار کرنے پر وہ مجھ پر بلا وجہ اعتراض پر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں۔پیچھے ایک دفعہ ڈلہوزی میں ان میں سے ایک شخص مجھے ملنے آئے۔ان کے والد پہلے تو غیر مبایع تھے لیکن بعد میں انہوں نے میری بیعت کرلی اور مخلص ہیں۔وہ کہنے لگے۔آپ مولوی محمد علی صاحب سے صلح کر لیں۔اس کا نیک نتیجہ پیدا ہو گا۔اور مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔آپ قبول کر لیں۔میں نے کہا آپ میری بات بھی سن لیں۔اور پھر اندازہ لگائیں کہ میں کیونکر دعوت قبول کر سکتا ہوں۔میں نے کہا حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب میں لاہور آیا۔تو میں نے ایک دوست کے ذریعہ اس خیال سے کہ بعض دفعہ ملاقات کرنے سے ایک دوسرے سے نفرت دور ہو جاتی ہے۔یہ تجویز کی کہ مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کی جائے۔چنانچہ اس دوست نے دعوت کی۔لیکن مولوی محمد علی صاحب نے بجائے دعوت منظور کرنے کے یہ کہا کہ پہلے مباحثہ ہونا چاہئے۔اب دیکھئے میں نے تو یہ تجویز کی لیکن ادھر مولوی صاحب نے دعوت کا انکار کرتے ہوئے مباحثہ کے لئے آمادگی ظاہر کی۔جس کے لئے بعد میں شرائط وغیرہ بھی پیش ہوتی رہیں۔اور آخر وہ مباحثہ کی طرف بھی نہ آئے۔پھر ایک دفعہ عبدالحی مرحوم کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ یہاں آئے۔تو میں نے دعوت کے لئے پیغام بھیجا۔لیکن اس وقت بھی انہوں نے دعوت سے انکار کر دیا۔پھر ایک دفعہ یہاں شیخ رحمت اللہ صاحب آئے۔اور بہشتی مقبرہ میں گئے۔تو میں نے قاضی امیر حسین صاحب کے ذریعہ وہیں انہیں دعوت کا پیغام بھیجا۔مگر انہوں نے انکار کر دیا۔اور پھر میں خودان کے پاس پہنچا۔اور وہیں چائے منگا کر ان کو پلائی اور ٹھیرنے کے لئے بھی کہا۔لیکن وہ ٹھیر نہ سکے۔پھر یہ لوگ مولوی محمد احسن صاحب کے لئے یہاں آئے تو میں نے دعوت کا پیغام بھیجا۔لیکن انہوں نے دعوت رد کر دی میں نے مولوی شیر علی صاحب کے ہاتھ ٹانگہ پر کھانا بجھوایا کہ بٹالہ اتر کر کھا لینا۔لیکن انہوں نے ٹانگہ میں برتن رکھے ہوئے اتار دیے۔ان واقعات کے بعد بتائیے۔غیرت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں۔اور ان حالات میں میں ان کی دعوت کیونکر قبول کر سکتا ہوں۔اس پر اس دوست نے