خطبات محمود (جلد 10) — Page 92
ہے۔92 صلح دل کی اصلاح کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔دیکھو مسٹر گاندھی نے دلوں کو درست کئے بغیر ہندو مسلمانوں کی صلح کرانی چاہی۔سال بھر تک تو آپس میں اس قدر صلح نظر آتی تھی کہ سگے بھائیوں سے زیادہ محبت معلوم ہوتی تھی مگر اس کے بعد پھر مخالف اثر پیدا ہونا شروع ہوا۔اور ایسا اثر ہوا کہ آج سے میں سال پہلے مسلمانوں اور ہندوؤں کے تعلقات اتنے خراب نہیں تھے۔جتنے اس صلح اور اتحاد کے بعد ہو گئے ہیں جو مسٹر گاندھی نے کرائی تھی۔اور جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔وہ ٹوٹی اور ایسی ٹوٹی کہ پہلے سے بھی بدتر حالت ہو گئی۔اس کی یہی وجہ ہے کہ بغیر دلوں کی اصلاح کئے صلح کی کوشش کی گئی مگر قوموں کی صلح ہمیشہ اسی صورت میں ہو سکتی ہے۔جب ان کے دل اس بات کو محسوس کریں کہ ذاتیات پر بلا وجہ بیہودہ اعتراضات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اگر اس بات کو دل محسوس نہ کریں تو لاکھ مریں اور دستخط ہوں۔اور لاکھ شرائط طے کئے جائیں۔صلح کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔پھر قوموں میں صلح بڑوں کے صلح کر لینے سے اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی۔جب تک قوم کے افراد میں سے صلح کے موانع دور نہ کئے جائیں۔وہ اقوام جن میں صلح کے مواقع پیدا ہوتے رہیں۔ان کے افراد میں کبھی صحیح صلح نہیں ہو سکتی۔پھر تمام طبائع ایک سی نہیں ہوتیں۔بعض طبائع جو شیلی ہوتی ہیں۔بعض متحمل اور نرم ہوتی ہیں جو دوسروں کی سختی برداشت کر لیتی ہیں۔لیکن بعض طبائع برداشت نہیں کر سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مخلص دوست پروفیسر کے نام سے مشہور تھے۔وہ حضرت صاحب کے خلاف کوئی بات سن کر برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں ان کے متعلق شکایت کی کہ یہ لوگوں سے بڑی سختی سے پیش آتے ہیں۔ان کو نرمی اور صبر کی نصیحت کی جائے۔حضرت صاحب نے انہیں بلا کر نصیحت شروع کی کہ آپ سختی چھوڑ دیں۔اگر کوئی ہمیں برا بھلا کے تو صبر کیا کریں۔ایسے موقعہ پر اسلام صبر کی تعلیم دیتا ہے۔پہلے تو وہ خاموشی سے سنتے رہے۔جب حضرت صاحب خاموش ہو گئے تو بڑے جوش سے کہنے لگے۔آپ ہمیں تو صبر کی تعلیم دیتے ہیں۔لیکن جب آپ کے پیر ( محمد رسول اللہ ا ) کو کوئی گالی دیتا ہے۔تو مباہلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تو طبائع مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔اب اگر ایک جماعت دیکھتی ہے کہ اس کے امام کو بلاوجہ گالیاں دی جاتی ہیں۔اور اس پر بے جا