خطبات محمود (جلد 10) — Page 89
89 10 غیر مبایعین کا نامناسب رویہ (فرموده ۱۲ مارچ ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میرا طریق اور مسلک ہمیشہ سے یہی چلا آیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میں بحث سے گریز کرتا ہوں۔قدرتی طور پر میری طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں مبا مثانہ طریق کو نا پسند کرتا ہوں۔اگر کوئی شخص مجھ سے بحث کے رنگ میں گفتگو شروع کرنا چاہے۔تو میں اس طریق سے حتی الوسع کنارہ کشی کرتا ہوں۔ہاں مذہبی بحث اور چیز ہے۔مذہب کی خاطر اس خیال سے کہ بحث نہ کرنے کی صورت میں اسے نقصان پہنچے گا۔پورے شوق اور ذوق کے ساتھ بحث میں حصہ لیتا ہوں۔لیکن دوسرے امور میں مباحثانہ رنگ اختیار کرنے سے گریز کرتا ہوں۔اور باوجود اس کے کہ دلیل کا جواب میں دلیل سے دے سکتا ہوں پھر بھی میرا ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے کہ میں بحث سے پہلو تہی کرتے ہوئے معاملہ کو اور صورت میں طے کرنا چاہتا ہوں۔مثلاً بسا اوقات جب ہمارے انتظامی معاملات پر آپس میں گفتگو ہو۔اور دوستوں کے درمیان اختلاف ہو۔تو میں ایسا طریق اختیار کرتا ہوں کہ سننے والا یہی خیال کرے گا شائد اس کے پاس کوئی دلیل نہیں جس کی وجہ سے یہ اپنے مقام کو چھوڑ رہا ہے اور پیچھے ہٹ رہا ہے۔مگر میں ہمیشہ یہی چاہتا ہوں کہ بجائے مخاصمانہ رنگ میں گفتگو کرنے کے کوئی ایسا درمیانی طریق نکل آئے جس سے بغیر اس کے کہ کسی قسم کا نقصان پہنچے میں دوسروں کی آراء اور احساسات کو مد نظر رکھ سکوں۔لیکن اس طریق کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ مخالفین ہمیشہ میری ذات پر طرح طرح کے حملے کرتے رہے ہیں۔بسا اوقات دوستوں نے چاہا کہ میں بعض معاملات میں دخل دوں اور اپنے مخالفین کے اعتراضات کے جواب دوں۔لیکن میں حتی الامکان اس خیال سے بچتا رہا کہ جب میری طرف سے