خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 62

62 دیکھا کہ حضرت صاحب ان کی طرف ناراضگی کی وجہ سے نہیں دیکھتے اور یہ بتایا گیا تھا کہ ان کو غلطی لگی ہوئی ہے۔اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی خدمت دین ہے ان کی وفات کے متعلق بھی اللہ تعالٰی نے مجھے بتایا تھا۔میں نے ان کے مرنے سے پہلے رویا میں دیکھا وہ آئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں چلو صلح کی تدبیر نکالی ہے۔میں ان کے ساتھ چلا گیا اور لوگ بھی تھے۔مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔باتیں ہونی شروع ہوئیں مولوی محمد علی صاحب نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے معلوم ہو تا تھا کہ صلح نہیں ہو سکتی۔شیخ صاحب اس پر ایک طرف کونے میں جابیٹھے۔ان کا چہرہ افسردہ ہو گیا۔اور کہنے لگے اچھا آپ لوگوں کی مرضی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ہم مر گئے تو ہمارے بچے بھی احمدی نہیں رہ سکتے۔میں نے یہ خواب اس وقت بعض دوستوں کو سنائی تھی۔اس سے معلوم ہو تا تھا کہ شیخ صاحب اب فوت ہو جائیں گے۔حالانکہ جو مرض ان کو تھی وہ کوئی ایسی خطرناک صورت میں نہ تھی۔غرض جب وہ فوت ہو گئے تو میں نے ان کا جنازہ پڑھا تھا۔زین الدین صاحب کے متعلق بھی میں نے رویا میں دیکھا۔کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم آئے ہیں۔میں نے دریافت کیا آپ کہاں؟ فرمانے لگے میں بھی آیا ہوں اور حضرت صاحب بھی آئے ہیں۔زین الدین صاحب کو لے جاتا ہے۔میں نے اس سے سمجھ لیا کہ رؤیا ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ان کی عمر ۹۵ یا سو سال کے قریب تھی اور حضرت صاحب کے دیرینہ مخلص تھے۔وہ بالکل اسی طرح کے مخلص تھے۔جس طرح کے شیخ رحمت اللہ صاحب۔چند لوگ جنہیں حضرت صاحب بہت پیار کیا کرتے تھے۔ان میں سے ایک یہ زین الدین صاحب تھے۔الفضل ۱۶ فروری ۱۹۲۶ء)