خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 61

61 رو نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ کسی نبی کی جماعت کے ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو انعمت علیھم ہیں اور اگر اس نگاہ سے جماعت احمدیہ کو دیکھیں تو بے نظیر کام نظر آئیں جو ہو رہے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری جماعت ایسی نہیں ہے جیسی اس قسم کے لوگ سمجھتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں۔یہ کام انسانی طاقت سے بالا ہے اور جب تک اس کی طرف سے مدد نہ ہو کچھ نہیں بنتا۔خواہ اپنی اصلاح ہو خواہ سروں کی۔سو میں دعا کرتا ہوں خدا ہم سب کی اصلاح کرے اور اس کام کے لئے ہم میں استقلال پیدا فرمائے اور ہمیں ہمت بخشے کیونکہ استقلال اور ہمت کے بغیر بھی اسے ہم نہیں کر سکتے۔ہم اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں اور طعن دینے والوں کے طعنوں سے خائف نہ ہوں اور ہم نے کی اصلاح کرتے چلے جائیں اور رکیں نہیں۔(آمین) خطبہ ثانی میں فرمایا : آج میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا جو سب ایسی جگہوں کے ہیں۔جہاں احمدی جنازہ پڑھنے والے نہیں تھے۔(1) پیارا صاحب ضلع ہوشیار پور کے۔نمونیہ سے فوت ہو گئے ہیں اکیلے احمدی تھے۔(۲) میاں محمد جمیل صاحب میاں ونڈ کی ہمشیرہ فوت ہو گئی ہے۔سوائے ان کے اور کوئی شخص ان کا جنازہ پڑھنے والا اس جگہ نہیں تھا۔(۳) رحمت اللہ صاحب سنوری حیدر آباد دکن میں فوت ہوئے ہیں۔(۴) نجم النساء شاہجہان پور کے ضلع میں فوت ہوئی ہیں۔ان کا جنازہ پڑھنے والے بھی نہ تھے۔(۵) ان کے ساتھ ایک اور جنازہ بھی ہے۔وہ زین الدین صاحب کا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے مخلصوں میں سے تھے۔بمبئی میں انجینیئر تھے۔اب ضیعف العمر تھے۔بہت اونچا سنتے تھے۔مسیح موعود کو خاص محبت ان سے تھے۔وہ میری بیعت میں داخل ہو گئے تھے۔لیکن بعد میں سیٹھ اسماعیل صاحب آدم کے سبب غیر مبایعین کے ہم خیال ہو گئے۔چونکہ خود وہ اونچانتے تھے اور سیٹھ اسماعیل آدم کے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔اس لئے سیٹھ صاحب ہی ان کے کان تھے۔سیٹھ صاحب خود بھی بہت مخلص تھے۔اور اب بھی وہ مخلص ہیں لیکن جب وہ کسی حد تک پیغامی ہو گئے تھے تو یہ بھی کچھ سست ہو گئے اور ادھر متوجہ ہو گئے مگر میں ان کا بھی جنازہ پڑھاؤں گا۔میرے نزدیک غیر مبا میعین کا جنازہ پڑھنا جائز ہے۔میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کا جنازہ بھی پڑھا تھا۔میں نے رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان پر ناراض دیکھا۔میں نے متواتر