خطبات محمود (جلد 10) — Page 50
50 یاد رکھنا چاہئے کہ امید خوف اور خشیت کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تائید کرتی ہے۔کوئی امید بغیر خوف کے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ امید کہتے ہی اسے ہیں کہ جب غالب طور پر خیال ہو کہ ایسا ہو جائے گا۔انسان سمجھتا ہے سامان موجود ہیں مگر ممکن ہے کوئی روک پیدا ہو جائے۔تو امید کا لفظ اپنے اندر خوف اور خشیت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے امید کے مقام پر جماعت کو کھڑا کیا اور مایوسی سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔بعض لوگوں کے لئے یہ زمانہ مایوسی اور ناامیدی کا زمانہ ہے۔اور اگر اس قوم کے لئے یہ زمانہ مایوسی کا زمانہ نہ ہوتا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سب سے پہلے مبعوث ہوئے تو پھر آپ کے متعلق یہ پیشگوئی بھی نہ ہوتی کہ آپ ابلیس کا سر کچلیں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔تو خود مسلمان کہہ رہے تھے کہ سو سال کے اندر اندر عیسائیت اسلام کو کھا جائے گی۔وہ اسلام کی طرف سے عیسائیت کے آگے معذرتیں شائع کر رہے تھے۔اور اسلام کو عیسائیت کے قالب میں ڈھال رہے تھے۔مگر آج دیکھو کیسی کایا پلٹ گئی ہے۔خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان لوگوں نے مانا یا نہ مانا۔مگر وہ امید کی بارش جو آپ نے دنیا میں برسائی اس سے متاثر ہوئے بغیر وہ بھی نہ رہے۔اور وہ لوگ جنھوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار کیا۔وہ بھی امید کے پانی سے کچھ نہ کچھ سیراب ہوئے بلکہ وہ یورپین اور مغربی قومیں جو ایک طرف تو غلط قسم کے خیالات میں مبتلا اور دوسری طرف سخت مایوسی میں گرفتار ہونے کی وجہ سے اخروی زندگی سے انکار کر رہی تھیں۔ان میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو لکھ رہے ہیں کہ اخروی زندگی بھی ہے۔پس امید کی جھلک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر دی بلکہ یورپ میں بھی پیدا کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ نبی کا یہ کام نہیں کہ ہر جگہ پہنچے بلکہ خدا تعالیٰ لوگوں کے قلوب میں فرشتوں کے ذریعہ تحریک کراتا ہے اور لوگ اس رو سے متاثر ہوتے ہیں جو نبی پیدا کرتا ہے۔پس دنیا میں جو تبدیلی غیر معمولی ہوتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔کیونکہ خدا تعالٰی اس کی مدد فرشتوں کے ذریعہ کرتا ہے۔پس گو ان علاقوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہیں گئے۔اور ابھی تک ہمارے مبلغ بھی نہیں پہنچے۔لیکن وہاں جو تبدیلی ہوئی ہے وہ وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا کرنا چاہتے تھے۔قرآن کریم میں بھی یہ پیشگوئی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں تمام قوموں میں امنگ پیدا ہو گی کہ ہم سب کو فتح کرلیں۔ا یہ بھی امید ہی ہے اور اب دیکھ لو ہر قوم میں اس زمانہ میں کس طرح یہ پیدا ہو