خطبات محمود (جلد 10) — Page 47
47 محدود طاقت مخفی ہے۔اور امید سے میری مراد یہ ہے کہ جو مقصد وحید انسان کے سامنے ہے اس کے حصول کے لئے گوناگوں اور رنگا رنگ قابلیتیں اس میں پیدا کی گئی ہیں۔یہ خیال ہے جو پہلے کسی نبی نے اس زور اس قوت اور اس وضاحت کے ساتھ دنیا میں پیش نہیں کیا۔جس زور ، وضاحت اور قوت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے۔پہلے انبیاء کے وقت کئی قسم کے خوف دلائے گئے۔امیدیں دلائی گئی مردہ دلوں کو زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔وہم میں پڑے ہوئے لوگوں کو حقیقت کی طرف لانے کی کوشش کی گئی۔ستوں اور غافلوں کی ہشیار اور چست بنانے کی تدبیریں کی گئیں۔اپنی تیزی طبع سے دوسروں کے جذبات کو پامال کرنے والوں کو پیچھے کھینچا گیا۔مگر امید کا یہ پہلو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا کسی نے پیش نہیں کیا۔پھر دوسری تعلیم جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے نئے رنگ میں پیش کیا۔اور جسے آپ نے اپنی ہر تحریر اور بات کا مغز بنا لیا وہ اصلاح ہے۔آپ نے اس امر کو پیش کیا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اصل مقصود نہیں۔سب اعمال پوست اور چھلکا ہیں اور ایک قسم کی پوشش اور لباس ہیں۔ان تمام پوششوں اور چھلکوں کے درمیان ایک اور مغز ہے اور ان تمام لباسوں کے نیچے ایک اور جسم ہے۔اور وہ روح نتیجہ ہے جو اعمال کا پیدا ہوتا ہے۔اگر کسی اچھے سے اچھے اور خوبصورت سے خوبصورت کام کے نتیجہ میں بدی اور بد کاری فساد اور جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو وہ عمل اچھا نہیں۔کیونکہ جس چیز کا روحانی نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔وہ اپنی ذات میں اچھی نہیں۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس امر کو پیش کیا ہے کہ ہمارے تمام اعمال میں اصلاح مد نظر ہونی چاہئے۔لیکن اس اصلاح سے مراد وہ سطحی اصلاح نہیں جیسے کسی شاعر نے یہ کہہ دیا ہے۔دروغ مصلحت آمیز به از راستی فتنه انگیز کہ مصلحت کے ماتحت جھوٹ بولنا اچھا ہے فتنہ پیدا کرنے والی سچائی ہے۔یہ محض شاعرانہ خیال اور سطحی نظر سے دیکھنے کا نتیجہ ہے جس میں صرف اس بات کو دیکھا گیا ہے کہ ہمارے عمل کا عاجل نتیجہ بھی نکلا کرتا ہے اور یہ نہیں دیکھا گیا کہ بعد میں آنے والا بھی اثر ہوتا ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے۔اس خیال کے لوگوں نے اس بات پر تو غور کیا ہے کہ بعض دفعہ سچائی سے پہلے فوری طور پر کوئی فتنہ پیدا ہو جاتا ہے اور جھوٹ سے امن قائم ہو جاتا ہے مگر یہ نہیں دیکھا کہ دنیا کے ہزاروں ہزار لوگ بلکہ دنیا کے تمام لوگ نیتوں کو نہیں دیکھتے۔نتیجوں کو دیکھتے ہیں کیونکہ ان میں کسی کی نیت پڑھ لینے