خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 37

37 4 صراط مستقیم کا کیا مطلب ہے (فرموده ۲۲ جنوری ۱۹۲۶ء) تشهد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میری آواز اور میرے گلے کی حالت آج ایسی ہے کہ وہ اجازت نہیں دیتی کہ میں بولوں لیکن خطبہ جمعہ چونکہ اسلام کی سنتوں میں سے ایک ضروری سنت ہے۔اس لئے اسے ترک بھی نہیں کیا جا سکتا۔پس میں نہایت اختصار کے ساتھ اپنے دوستوں اور اپنے بھائیوں کو سورہ فاتحہ کے ایک ایسے نکتہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جو نہایت ہی اہم اور نہایت ہی ضروری ہے۔سورہ فاتحہ میں کہا گیا ہے کہو اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت عليهم یعنی اے خدا ہمیں راستہ دکھا پہلے منعم علیہ لوگوں کا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ راستہ کونسا راستہ ہے جو صراط الذین انعمت عليهم میں ذکر کیسا گیا ہے۔کہ ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے ہم سے پہلے انعام کیا۔اس کے معنے اگر یہ کئے جائیں۔کہ ہم سے پہلے جو لوگ گذر چکے ہیں۔ان کے مدارج ہمیں بھی عطا کر۔اور جو جو درجے ان کو ملے تھے۔جو جو رہے ان ارگوں کو عطا کئے گئے تھے۔اور جو جو مقام ان کو دیئے گئے تھے۔وہ سب درجے وہ سب رہتے اور وہ سب مقام ہمیں بھی دے۔تو گویا دنیا کا ہر فرد بشر ایک رنگ میں ان مدراج اور رتبوں کے لئے دعا کر سکتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت ا بھی یہی دعا مانگتے تھے ؟ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ پانچوں نمازوں تجد اور نوافل کے علاوہ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اور ادھر یہ بھی ہے کہ آپ سب سے افضل بھی تھے۔اب یا تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ آنحضرت کے اوپر کے درجہ کے بھی لوگ تھے۔جن کے درجہ کو پانے کے لئے آنحضرت یا دعا مانگتے تھے اور اگر ہم یہ مان لیں تو اس صورت میں آپ کو افضلیت پر حرف آتا ہے۔یا پھر یہ کہنا پڑے گا کہ آپ نعوذ باللہ یہ کہتے ہیں کہ الهلال