خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 282

282 تعداد اور مال میں ہماری نسبت کروڑوں درجہ زیادہ ہونے کے پھر اس کام میں کامیاب نہ ہو سکے جس میں ایک چھوٹی سی جماعت کامیاب ہو گئی ہے۔ادھر یہی خیال ان کے لئے محرک ہوا کہ چلو اس جگہ کو بھی چل کر دیکھیں کہ جس کے افتتاح کے لئے امیر فیصل مکہ سے چل کر آیا اور پھر مذہبی حساد کے روکنے کی وجہ سے اس تقریب سے رک گیا۔اور در حقیقت اس میں اللہ تعالی کا ہاتھ تھا کیونکہ خدا تعالٰی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی مسجد کسی انسان کی مرہون منت ہو۔بلکہ اس کے شاندار افتتاح اور اس کی عظمت و شہرت کے سامان اللہ تعالٰی نے خود ہی پیدا کر دیئے ہیں۔چنانچہ بعض اخباروں میں تین تین دن تک افتتاح کی خبروں کا تانتا لگا رہا۔یورپ کے اخباروں کی طاقت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ ایک ایک خبر کے شائع کرنے میں سبقت کرنے کے لئے ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔اور پھر ایک دفعہ شائع ہونے کے بعد دوسری دفعہ وہ کبھی شائع نہیں کرتے۔اور اگر کسی وجہ سے کسی اور اخبار کے ذریعہ وہ خبر پہلے شائع ہو جائے۔تب بھی اسے شائع نہیں کرتے۔لیکن افتتاح مسجد کے متعلق ولایت کے ایک ایک اخبار مثلاً ٹائمز جیسے اخبار نے بھی تین دن متواتر خبریں درج کیں۔اور یہ نہیں خیال کیا کہ اب یہ خبر پرانی ہو گئی ہے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انگلستان کے ہر گھر میں مسجد کے متعلق ایک شور پڑا ہوا ہے اور چرچا ہو رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس قدر رعب اور عزت جو سلسلہ کو بخشی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی کیا صورت ہے۔ان لوگوں کے دلوں میں اب جوش پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اسلام کی صحیح کا مطالعہ کریں اور مسلمانوں سے ملیں۔ان کی مذہبی حالت ان کی دینی حالت کے متعلق دریافت کریں۔لیکن اگر ہمارے پاس اس کام کے لئے کافی لٹریچر نہ ہو جو ان کے ان جذبات کو جو ان میں پیدا ہو گئے ہیں۔ٹھنڈا کرے۔تو وہ ضرور پھر دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے۔اور ان کے پاس جائیں گے۔اور اس طرح گویا ہماری تمام محنت اور لاکھوں روپیہ کا خرچ بالکل ضائع چلا جائے گا۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اب ہماری جماعت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ایک تو پہلے میرے ہی وہاں جانے سے ان کے اندر زبردست ہیجان پیدا ہو چکا تھا کیونکہ وہ لوگ تو مسیح کا نائب پوپ کے سوا اور کسی کو نہیں سمجھتے تھے ان کو یہ کہاں معلوم تھا کہ ایک اور مسیح بھی مسلمانوں میں پیدا ہوا ہے۔جس کا نائب ہمارے ملک میں آئے گا۔اس لئے پہلے تو میرے وہاں جانے نے ان کے اندر ایک بہت بڑا ہیجان پیدا کر دیا تھا۔چنانچہ اسی وجہ سے اس کثرت سے انہوں نے ہمارے فوٹو لئے کہ ہم تھک جاتے تھے۔پھر بڑی بڑی اخباروں کے نمائندے ملنے کے لئے آتے