خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 249

249 بھی یہی کہا جاتا ہے۔بے شک سرٹیگور نے شہرت پائی مگر شہروں میں۔سرٹیگور کی عزت زیادہ سے زیادہ آبادیوں میں ہے اور آبادیوں میں سے بھی بہت تھوڑی آبادیوں میں اور پھر وہ بھی علمی حلقہ میں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دنیا کے کونہ کونہ میں شہرت ہے۔سر ٹیگور کو افغانستان کے پہاڑوں پر کوئی نہیں جانتا۔ایران کے پہاڑوں پر کوئی نہیں جانتا۔تو کستان کے پہاڑوں پر کوئی نہیں جانتا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام اڑ کر وہاں پہنچا۔اور ایسے طریق سے پہنچا کہ عقلیں حیران ہیں کہ کس طرح آپ کا نام ایسے ایسے مقامات پر جا پہنچا کہ جہاں انسان کا گزر بھی بمشکل ہے اور یہ اسی شہرت اور عزت کا نتیجہ ہے۔جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے وعدے کے مطابق بطور نشان دی کہ ہر ملک اور ہر علاقہ سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔پھر آپ کا نام دنیا کے ہر طبقہ کے لوگوں میں بھی پہنچا آج قادیان کی کیا حالت ہے اس کا اندازہ اس کو دیکھنے سے ہو سکتا ہے کہ یہاں ہر وقت ہی ایک نمائش دنیا کے لوگوں کی لگی رہتی ہے۔ہر طبقہ اور ہر علاقہ کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ہر قسم اور ہر ملک کے آدمی یہاں دیکھنے میں آتے ہیں۔قریب کے لوگ بھی آتے ہیں اور دور دراز علاقوں کے لوگ بھی آتے ہیں۔سیاہ بھی آتے ہیں اور سفید بھی آتے ہیں۔اور کوئی قوم نہیں کہ جس کے لوگ یہاں نہ آتے ہوں۔اور کوئی ملک نہیں کہ جس کے باشندے اس سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ایک دفعہ مفتی صاحب کو اچھی سو جبھی آپ نے ایک دفعہ یہاں ایک میٹنگ کی۔جس میں دنیا کے مختلف حصوں میں بولی جانے والی بائیس زبانوں میں تقریریں کی گئیں۔اتنی زبانوں کے جاننے والے بعض بڑے بڑے شہروں میں بھی نہیں ملتے ہم نے حساب لگایا۔ابھی بہت سی زبانیں رہ گئی تھیں۔جن کے جاننے والے تو یہاں موجود تھے۔مگر وہ اس میٹنگ میں شامل نہ ہو سکے۔اور یہ ترقی روز بروز بڑھ رہی ہے اور دنیا کی باقی زبانیں جانے والے لوگ بھی یہاں جمع ہو رہے ہیں۔تو یہ سب کچھ کس طرح ہوا۔حضرت صاحب اس عزت کے لینے کے لئے کسی کے گھر چل کر نہیں گئے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ عزت اور شہرت ان کو گھر بیٹھے ہی دی اور یہی حقیقی اور سچی شہرت اور عزت ہے جو گھر بیٹھے کسی کو ملے۔حال ہی میں ایک کتاب بڑے بڑے مشہور مشنریوں نے لکھائی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ عیسائیت کس طرح پھیلائی جائے۔اس میں ایک مقام پر اسلامی ممالک میں عیسائیت پھیلانے کے پرا متعلق بحث کی گئی ہے۔اس کتاب میں ہر فن کے ماہر سے مضمون لکھوائے گئے ہیں۔جو جس فن