خطبات محمود (جلد 10) — Page 234
234 کے وہ کامل ترقی کر سکتا ہے۔الہی تعلیم کے ذریعہ اس کو ہدایت دی۔جیسے آنکھ کو دیکھنے کی طاقت دے کر سورج کی روشنی کو بھی بنایا کہ جس کی مدد کے بغیر وہ آنکھ کچھ کام نہیں کر سکتی۔چونکہ یہاں یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ اسلام سے پہلی تعلیمیں جہاں اپنے وقت پر مفید تھیں وہاں وہ اب ناقص ہوگئی ہیں اور بے سود ہیں اس لئے اور مثال دی فرمايا والذي اخرج المرعى فجعلہ غشاء احوی معنے اور وہ خدا جس نے اعلیٰ کھیتیاں پیدا کیں۔پھر ان کو کوڑا کرکٹ بنا دیا۔اسی طرح پہلی تعلیمیں خراب ہو گئیں۔جس طرح جب تازہ پھل ہوتا ہے۔اس وقت وہ نہایت خوشگوار اور مفید ہوتا ہے لیکن جب گل سڑ جاتا ہے تو کوڑے کرکٹ کی طرح بوجہ اپنے مضرت کے پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح جو ہدایتیں آتی رہتی ہیں وہ ایک وقت مفید تھیں۔لیکن اب گل سڑ گئی ہیں۔اس وجہ سے رسول کریم ہے ذریعہ نئی تعلیم بھیج دی گئی۔اب طبعا " یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ یہ اسلامی تعلیم بھی پہلی تعلیموں کی طرح ناکارہ ہو جائے گی۔اور کسی وقت پھینک دینے کے قابل ہو جائے گی۔اس لئے فرمایا۔سنفرنک فلا تنسى الا ماشاء اللہ یعنی ایسی تعلیم ہو گی جو کہ اس طرح پر تجھ کو سکھائیں گے کہ تو اس کو بھولے گا نہیں۔اس لئے ہمیشہ رہے گی۔اور ہرگز ہرگز ترک نہ کی جائے گی۔یعنی گلے سڑے گی نہیں۔الا ماشاء اللہ مگر سوائے بعض باتوں کے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی چھوڑ دی گئیں۔جیسے بیت المقدس کو قبلہ بنانا ترک کر کے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کی ہدایت ملی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام تعلیم ہی چھڑوا دی جائے گی۔جیسے بہائی کہتے ہیں کہ شریعت اسلام جاتی رہی۔ان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ تجھ کو ایسا سکھائیں گے کہ ہر گز نہ بھولے گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ونیسرک للیسرے یعنی ہم تجھ کو ایسی تعلیم دیں گے جو کہ ہر زمانہ کے لئے ہوگی۔یہاں محنت کے لحاظ سے اس کا آسان ہونا بتلانا مقصود نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ تعلیم ایسی ہے کہ جس پر ہر زمانہ میں عمل ہو سکتا ہے اور کبھی بھی ضمیر کے خلاف یہ تعلیم نہ ہو گی۔پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ تجھ کو اس تعلیم تک پہنچائیں گے کہ جو ہر زمانہ میں بلحاظ عمل کرنے کے آسان ہوگی۔اور کامل ہو گی آگے فرماتا ہے فذکر ان نفعت الذکری نے پس تو اس کو لوگوں تک پہنچا اور ایسا کرتا چلا جا۔لوگوں سے نہ ڈرو۔کیونکہ خدا کی تعلیم ایک نہ ایک دن لوگوں کے دلوں میں گھر کر ہی لے گی۔یہ ایک حکم تبلیغ کے لئے ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ سچائی کی بیچ کرتا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس سچائی کو ہم دنیا میں پھیلائیں۔دیکھو دنیا میں کسی سمت کو نکل جائیں کہیں لوگ خدا کو گالیاں دینے والے پائے جائیں گے۔کہیں شرک کرنے والے ہوں گے۔کہیں اس کی طرف سے بے پرواہ ہوں گے۔ایسی