خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 233

233 ہے۔اگر وہی روپیہ جو مسجد کی تعمیر پر خرچ ہوتا ہے۔غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کیا جائے تو بہت زیادہ موجب ثواب ہوگا بہ نسبت اس مسجد پر خرچ کرنے کے کہ جس میں خدا کا نام بلند کرنے والی جماعت نہ ہو اور وہ بے آباد رہے۔ہم اگر دوسرے ملک میں مسجد بناتے ہیں تو اس کی غرض اس ملک میں توحید قائم کرنا اور وہاں کے لوگوں کو موحد بنانا ہے۔اگر یہ نیت نہ ہو تو ہم اس روپیہ سے جو کہ مسکینوں اور غریبوں پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔ایسی مسجد پر خرچ کر کے نعمت کو ضائع کرنے والے بنیں گے۔پس ہماری جماعت کے لئے اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ تبلیغ اور اشاعت کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سبح اسم ربک الا علی یعنی (اے رسول اے مومنو!) اپنے رب اعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو۔اس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی کسی مکان کے گوشہ میں بیٹھ جائے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ لیا کرے اور سمجھ لے کہ تسبیح ہو گئی۔بھلا خدا کو اس سے کیا فائدہ؟ کیا اس میں کوئی نقص تھا۔جو اس تسبیح سے اس کی ترقی ہو کر وہ کامل بن گیا۔تسبیح اس وقت تک تسبیح نہیں کہلا سکتی جب تک اس کا تعلق قلب کے ساتھ نہ ہو۔وہ معلوم کرے کہ جس کا نمونہ میں نے بننا ہے وہ تمام عیوب سے پاک ہے پھر اس کے تمام صفات کو اپنے اندر لے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جن کی تصویر اپنے قلب کے اندر کھینچنا ہے۔اس کا اچھا نقشہ پہلے سامنے جمالے۔ورنہ تصویر درست نہ کھنچے گی مصور بھی تصویر تب ہی درست کھینچ سکتا ہے۔جب کہ وہ پہلے درست نقشہ اپنے سامنے جمالیتا ہے۔اسی لئے انسان بھی تب ہی اعلیٰ بن سکتا ہے جب وہ صفائی تصویر سامنے رکھے۔اور اسی قسم کا بننے کی کوشش کرے۔پھر فرمایا رب اعلیٰ وہ ہے جس نے انسان کو مکمل حالت میں پیدا کیا یہاں اسلام عیسائیت اور دیگر مذاہب سے اعلیٰ اور ممتاز معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ عیسائیت کہتی ہے کہ انسان چونکہ ناقص پیدا ہوا ہے اس لئے وہ گناہوں سے پورے طور پر نہیں بچ سکتا۔اس لئے کفارہ کی ضرورت پیش آئی۔ہندو مذہب بھی یہی کہتا ہے کہ چونکہ انسان بالکل گناہوں سے کبھی پاک نہیں ہو سکتا اسی وجہ سے ہمیشہ جونوں میں ڈالا جاتا ہے۔لیکن برخلاف اس کے اسلام کہتا ہے کہ انسان کامل صفات اپنے اندر رکھتا ہے اگر وہ صحیح طور پر کوشش کرے تو کامل بن سکتا ہے تو الذی خلق فسوی کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا وہ ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے نقصوں کو دور کیا۔اس لئے کہ اس کو کامل بنا دے۔آگے فرمایا والذى قدر فھدے یعنے وہ وہ خدا ہے جس نے اس کی طاقتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے کہ