خطبات محمود (جلد 10) — Page 230
230 ہونے سے ان کے معانی میں بھی ویسی ہی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔حمد اور مدح کے حروف کو ایک ہیں مگر ترتیب حروف کی تبدیلی سے ان کے معانی میں ایک فرق پیدا ہو گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ مدح کا لفظ تو سچی اور جھوٹی دونوں طرح کی تعریف کے لئے بولا جا سکتا ہے۔مگر حمد کچی تعریف کے لئے مخصوص ہے۔جھوٹی تعریف کو حمد نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح حمد میں اور شکر و شاء میں بھی ان کے حروف کی خاصیات کی بنا پر ایک فرق پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ یہ دونوں موخر الذکر لفظ صرف احسان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اور حمد کا لفظ احسان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ خواہ احسان کی قسم کی خوبی اور حسن ہو یا ایسی خوبی ہو جو احسان کے ماتحت نہ آتی ہو۔دونوں کا اظہار حمد کے معنے میں داخل ہے۔پس لفظ حمد میں وہ باتیں پائی جاتی ہیں جو اس کے قریب المعنی باقی الفاظ میں نہیں پائی جاتیں۔اس لفظ میں ہمیں تین تعلیمیں دی گئی ہیں۔اول یہ کہ جو تعریف کسی کی کریں سچی کریں۔جھوٹی تعریف کبھی کسی چیز کی نہ کریں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس کے برعکس جھوٹی تعریفوں پر یہاں تک زور دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تعریف میں بھی جھوٹی حدیثیں گھڑ لیں۔حالانکہ آنحضرت کو جو شان اللہ نے دی ہے وہ اس قدر ارفع ہے اور جو تعریفیں آپ کی ہیں وہ اس قدر اعلیٰ ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی جھوٹی تعریف کی کبھی ضرورت ہی نہیں پیش آسکتی۔کیونکہ آپ کی سچی تعریفیں ہی غیر متناہی ہیں اور اگر وہ جھوٹی باتیں آپ کی شان کو بڑھانے والی ہوتیں تو اللہ تعالیٰ ضرور وہ باتیں بھی آپ کی ذات میں رکھتا۔غرض کسی چیز کی کوئی جھوٹی تعریف کبھی نہیں کرنی چاہئے۔دوسری تعلیم اس میں ہمیں یہ دی گئی ہے کہ ہم جس چیز میں جس حسن و خوبی کا ادراک کریں اس کا اقرار کریں اور اس سے بہرہ ور ہونے کی کوشش کریں۔جس قدر علوم پائے جاتے ہیں ان کے وضع کئے جانے کی غرض و غایت دراصل یہی ہے کہ جس چیز پر کسی علم میں بحث ہوتی ہے۔اس چیز کی خوبیوں کا ادراک و اظہار اور اکتساب کیا جائے۔علم ہیئت، علم حساب، علم ہندسہ، علم طب اور علم قانون۔غرض ہر ایک علم کی غرض و غایت یہی ہے پس انسان کی نظر حسن پر ہونی چاہئے اور اس حسن کو اپنے اندر جذب کرنے میں کوشاں رہنا چاہئے۔تیسری تعلیم اس میں یہ دی گئی ہے کہ ہم ہر حسن و خوبی کی قدر کریں اور اسے عظمت کی نظر سے دیکھیں اور ہر احسان کے شکر گزار ہوں۔جو شخص بھی کوئی اچھا کام کرے اس کی قدر کرنی چاہئے خواہ کوئی ہو۔دوسرے ممالک کے لوگ ایسے کام کرنے والوں کی قدر کرتے ہیں۔مگر ہندوستان میں یہ