خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 229

229 24 حمد کے لفظ میں تین سبق بمقام ڈلہوزی فرموده ۳ ستمبر ۱۹۲۶ء) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : قرآن کریم میں مسلمان کی ابتدائی اور انتہائی دونوں حالتوں کو ایک ایسے لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔جو اسلامی تعلیم کا نچوڑ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔قرآن کریم کی ابتداء یا بلفظ دیگر سب سے پہلا سبق جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیا ہے وہ بھی الحمد للہ رب العالمین ہے اور مسلمان کی آخری بات بھی الحمد لله رب العالمین ہی بتائی گئی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين (يونس ) حمد کے ہم معنی عربی زبان میں چند اور الفاظ بھی ہیں جو یہ ہیں مدح، ثناء شکر ، لیکن ان میں اور حمد میں ایک فرق ہے جو ان کے حروف کے اختلاف یا ان حروف کی تقدیم و تاخیر سے پیدا ہوتا ہے۔عربی زبان کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس کے الفاظ اپنی معانی کو آپ ظاہر کرتے ہیں۔پھر ان الفاظ کے حروف کی ترتیب کا بھی دخل ہوتا ہے۔اور ان حروف کی خاصیات کے مطابق ان سے معانی پیدا ہوتے ہیں۔اور جن حروف کی خاصیات میں اشتراک پایا جاتا ہو ان میں سے جو حرف ترتیب حروف تہجی کے رو سے بعد والا ہو وہ اپنے سے پہلے آنے والے اپنے ہم خاصیت حرف کی نسبت زیادہ زور دار ہوتا ہے۔جیسے کہ لفظ قسم اور قسم جو ہم معنے ہیں ان میں سے موخر الذکر لفظ زیادہ زور دار ہے۔کیونکہ حرف ص کی نسبت حرف ض جو اس کا ہم خاصیت ہے اور حروف تہجی کی ترتیب کی رو سے اس کے بعد آتا ہے۔زیادہ زور دار ہے۔اسی طرح حروف کی زیادتی سے بھی معنے میں زیادتی پیدا ہو جاتی ہے۔جیسا کہ بعث کے مقابلہ میں بعثر اور قتل سے قتل اور علا کی نسبت تعالی زیادہ زور دار ہے۔غرض عربی زبان کے الفاظ میں حروف کی تبدیلی یا تقدیم و تاخیر یا کمی بیشی پیدا