خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 220

220 کہ یہ دنیا فانی ہے اور مجھے بھی ایک دن مرنا ہے میں آخرت کی فکر کروں۔لیکن ایک اور شخص ہوتا ہے جو بیمار کو دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ بیماری کا نتیجہ موت ہے۔اس میں اس شخص کے سمجھنے کی نسبت واسطے کم ہو گئے۔پھر ایک اور شخص ہے وہ احتیاج کو دیکھ کر ہی سمجھ لیتا ہے۔کہ انسان روزانہ کھاتا ہے۔پیتا ہے۔پہنتا ہے اور اور طرح کی احتیاجوں میں پھنسا ہوا ہے۔پس کوئی خدا ہے جو احتیاجوں کا پورا کرنے والا ہے۔یہ تو موٹی مثالیں میں نے بیان کی ہیں۔ہر امر میں روحانی ترقی کرنے والوں کے لئے واسطے کم ہوتے جاتے ہیں اور جیسے جیسے کوئی شخص روحانیت میں ترقی کرتا جائے گا ویسے ویسے خدا اور اس کے درمیانی واسطے بھی کم ہوتے جائیں گے۔آخر انسان کی روحانیت یہاں تک ترقی کر جاتی ہے کہ ملا کہ کے ذریعہ اس پر یر کشوف ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اور ان کے سوا کوئی مادی واسطہ درمیان میں نہیں رہتا۔پھر اور ترقی ہوتی ہے اور بعض ایسے احکام نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔جو شریعت میں موجود ہوتے ہیں مگر توجہ دلانے کے لئے پھر نازل ہوتے ہیں۔پھر اور آگے ترقی ہوتی ہے۔اور ایسے مقام پر انسان پہنچ جاتا ہے جہاں ملائکہ بھی درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔یعنی ملائکہ کا جو واسطہ درمیان میں ہوتا ہے۔وہ بھی نہیں رہتا اور ملائکہ بجائے واسطہ ہونے کے اس کلام کے ساتھ چوکیدار کے طور پر آتے ہیں۔تب انسان ایسا کامل ہو جاتا ہے کہ نہ صرف لفظوں میں ہی خدا کا کلام اس پر اترتا ہے بلکہ ہر وقت اس کے قلب پر اس کے انوار کا پر تو پڑتا رہتا ہے۔یہ حالت کسی کو نماز میں رونا آجانے سے نہیں پیدا ہو سکتی۔کیونکہ یہ طبعی حالات سے تعلق رکھتی ہے۔مادی ذرائع سے مادی اشیاء اور مادی لذائد ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔جیسے کھانے سے زبان کو مزہ آتا ہے۔وہ اذکار وغیرہ جن کا مادیات سے تعلق ہوتا ہے ان سے کچھ مزہ تو آتا ہے لیکن روحانیت پیدا نہیں ہو سکتی۔جیسے کھانے سے مزہ تو آتا ہے لیکن یہ نہیں ہو تا کہ وہ مزہ بھی حاصل ہو جائے جو ایک دوست سے ملنے کی خوشی سے حاصل ہوتا ہے۔دنیا میں دو قسم کی لذتیں ہیں۔ایک انسان کے اندر سے آتی ہے اور ایک باہر سے۔تمام وہ اذکار اور وظیفے جو عام طور پر کئے جاتے ہیں تمام کے تمام ظاہری ہوتے ہیں۔ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اگر کچھ ہوتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ انسان میں جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔اور مثال بعینہ ہے جیسے کوئی شخص سخت گھبرایا ہوا ہو غموں فکروں اور صدموں کا مارا ہوا ہو۔اسے افیون کھلا دی جائے یا بھنگ پلا دی جائے یا شراب پلا دی جائے اس سے کچھ دیر کے لئے وہ شخص غموں سے نجات پا ہوتی