خطبات محمود (جلد 10) — Page 216
216 وہ مسیح موعود ہے۔ایسے کام دراصل انتقال کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ایک مرید کے ذریعہ اگر کوئی ایسی پیشگوئی پوری ہوتی ہے جو رسول کو مخاطب کر کے بتائی گئی ہو۔یا کوئی مرید ایسا کام کرتا ہے جو رسول کے کرنے کا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رسول کی رسالت اس کی طرف منتقل ہو گئی بلکہ اس کا مطلب ہے کہ مرید کا کام رسول کی طرف منتقل ہو گیا۔پس ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اس پیشگوئی کے ماتحت جو بھی دمشق میں گیا وہ مسیح موعود ہو گیا بلکہ یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود کے ماننے والوں میں سے آپ کی تشریح کے مطابق جو دمشق میں گیا۔اس کا یہ کام مسیح موعود کی طرف انتقال الا کر گیا۔اور وہ پیشگوئی جو اس رنگ میں مسیح موعود کے لئے کی گئی تھی۔اس طرح پوری ہو گئی۔دیکھو آنحضرت ا نے دیکھا کہ قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں دی گئی ہیں۔لیکن وہ کنجیاں آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر ان کے ہاتھ میں دی گئیں۔اب اس میں " سے مراد آنحضرت ا تھے۔حضرت عمر مراد نہیں تھے۔لیکن کنجیاں حضرت عمر کے ہاتھ میں دی گئیں۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔کیونکہ آپ کے ایک غلام کے ذریعہ پوری ہو گئی۔اور مرید کے ذریعہ پیشگوئی کا پورا ہونا آقا کا ہی پورا ہوتا ہے۔نہ کہ کوئی کام کرنے سے پیر کی پیری مرید کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔پس جب پیر کا کوئی کام مرید کے ذریعے ہو۔تو یہ نہیں کہا جاتا کہ پیر نے یہ کام نہیں کیا۔کیونکہ مرید کا کام کرنا در حقیقت پیر کا کام کرنا ہی ہے۔اس کی مثال ما رسیت اذ رمیت و لكن الله رمى (الانفال (۱۸) میں بھی موجود ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم ان کو فرماتا ہے جب تو نے پھینکا تو تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا نے پھینکا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایک فعل کو اپنا فعل بتایا ہے۔جو در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا۔مگر اس سے آپ خدا نہیں ہو گئے۔بلکہ آپ کا ایک فعل خدا کی طرف منتقل ہو گیا۔تو ایسی تمام پیشگوئیاں جو کسی مدعی کے مریدوں کے ذریعہ پوری ہوتی ہیں۔مدعی ہی کی سمجھی جاتی ہیں۔اور ایسے کاموں سے مدعی کا دعوی اس کی طرف منتقل نہیں ہو جاتا۔بلکہ مرید کا کام مدعی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔مارمیت میں آنحضرت ﷺ کا کام خدا تعالیٰ کی طرف منتقل ہو گیا۔گویا یہ خدا تعالیٰ کا کام تھا۔جو اس نے آنحضرت ﷺ سے کرایا۔اور جب خدا نے آنحضرت ا کے ذریعہ اپنا ایک کام کر لیا۔تو آپ کے لئے بہت بڑی عزت کی بات تھی۔اور یہ ہمیشہ ہی عزت و افتخار کی بات ہوا کرتی