خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 212

212 وہ ایمان لانے سے ہی سوجھتی ہے۔کوئی شخص اگر مسلمان ہو کر تدابیر اختیار کرنا چھوڑتا ہے تو وہ ذلیل ہوتا ہے۔دوسرے لوگ تو تدبیریں اختیار کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن اگر اختیار نہ بھی کریں تو ان پر اتنا گلہ نہیں جتنا مسلمانوں پر ہے۔اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ غفلت عام طور پر مسلمانوں پر طاری ہے الا ماشاء اللہ سوائے چند لوگوں کے کہ وہ غلط تدبیریں ہوں یا صحیح کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔اور در حقیقت وہی ہیں جو اس وقت تک قوم کا سہارا ہیں۔اور انہیں کے سبب كلا نمد هولاء وهولاء من عطا ربك (بنی اسرائیل ۲۱) ان کی مدد بھی ہو رہی ہے۔مسلمانوں کی دعائیں بھی الٹ ہی پڑ رہی ہیں جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب تک ان کی دعائیں سیدھی نہ پڑیں گی کبھی گورنمنٹ سے مارے جائیں گے کبھی ہندوؤں سے۔اور دعائیں سیدھی پڑ نہیں سکتیں جب تک انہیں خدا پر حقیقی ایمان نہ ہو۔حقیقی یقین نہ ہو۔امید نہ ہو۔عجز و انکسار نہ ہو نہ ہو۔اور یہ باتیں حاصل ہو نہیں سکتیں جب تک اس زمانے کے مامور کو جسے خدا نے اس زمانہ کی اصلاح اور فلاح کے لئے مقرر کیا ہے۔مانا نہ جائے۔اور اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کوئی اور ہے نہیں۔پس جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ مانا جائے گانہ یہ باتیں حقیقی طور پر ان میں پیدا ہوں گی اور نہ وہ ذلت سے نکلیں گے۔اگرچہ مسلمان اپنی غفلت سے ذلت میں پڑے ہوئے ہیں۔تاہم وہ قابل رحم حالت میں ہیں اور ان کی حالت کو بھی درست کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں۔پس میں ان کے لئے بھی اور ساری دنیا کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ ساری دنیا کے لوگ ہی ہمارے بھائی ہیں۔خدا ان پر رحم فرمائے اور ان کو اس حالت سے نکالے۔لیکن مسلمان تمام دنیا سے ہمارے نزدیک ہیں۔کیونکہ جو محمد رسول اللہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں وہ ہمارے بہت قریب ہیں۔پس وہ ہمارے قریبی بھائی ہیں۔اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کی مشکلات کو دور فرمائے تاکہ وہ بھی اس کے فضلوں کے اسی طرح وارث ہوں جس طرح احمدی جماعت وارث ہے۔میں آج نماز جمعہ کے بعد مدد خان صاحب کی لڑکی آمنہ بیگم کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب انسپکٹر مدارس یوپی کو بہت لوگ جانتے ہیں۔پہلے تو وہ بہت قادیان آیا کرتے تھے۔مگر اب کم آتے ہیں۔آمنہ بیگم ان کی بیوی تھی۔جو یوپی میں فوت ہوئی ہے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ اکیلے ہی اس کا جنازہ پڑھنے والے تھے۔پس احباب کو چاہئے کہ وہ میرے ساتھ اس نماز جنازہ میں شریک ہوں۔(الفضل ۶ جولائی ۱۹۲۶ء)