خطبات محمود (جلد 10) — Page 211
211 ہی طریق سے صلح کرتے رہے۔اور اتحاد کے لئے کوشش کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔گوجو صلح اور اتحاد انہوں نے کیا اسے صلح اور اتحاد تو نہیں کہا جا سکتا تھا لیکن چونکہ وہ اسے صلح اور اتحاد کا نام دیتے تھے اس لئے میں بھی کہتا ہوں کہ انہوں نے بغیر تصفیہ حقوق کرنے کے صلح کر لی۔لیکن جب وقت آیا تو وہی منڈیر والا قصہ ہوا اور وہی جنگ برپا ہو گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نہ تو سیاسی کتابیں پڑھتے ہیں۔نہ ہم سیاسی مجالس میں شرکت حاصل کرتے ہیں۔اور نہ یہ باتیں جو ہم کہتے ہیں ہمارے غور فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ باتیں ہمیں خدا سمجھاتا ہے اور جو باتیں وہ ہمیں سمجھاتا ہے اور اس کے سمجھانے کے بعد جو باتیں ہم کہتے ہیں وہی اکثر پوری ہوتی ہیں۔اس وقت تو لوگ ان کو نہیں مانتے لیکن بعد ازاں وقت آتا ہے جب زبان سے تو نہیں افعال اور خیال سے انہیں ماننا شروع کر دیتے ہیں۔اور اب تو کہیں کہیں زبان سے بھی ماننا شروع کر دیتے ہیں۔پس یہ ٹھیک اور بالکل ٹھیک ہے کہ ایسی باتیں ہمیں خدا سکھلاتا ہے۔اور اس کے سکھلائے ہوئے علم کے ماتحت ہم دنیا کو بتاتے ہیں۔میں جب ولایت گیا تو وہاں میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان کی ترقی زراعت سے ہو سکتی ہے۔گورنمنٹ کہہ تو دیتی ہے کہ یہ زرعی ملک ہے اور زراعت سے اسے ترقی ہو گی مگر کرتی کچھ نہیں۔پھر وہ جن افسروں کو اس ترقی کے لئے وہاں بھیجتی ہے وہ ایسے ہوتے ہیں کہ عام تو الگ رہے خاص لوگ بھی ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔گورداسپور میں میں نے دیکھا کہ ایک ڈپٹی تھے وہ مجھے وہاں کے فارم دکھاتے رہے۔میں نے دیکھا جب وہ آتے تو زمیندار صف باندھ کر سڑک کے کنارے کھڑے ہو جاتے اور آداب بجا لاتے۔میں نے کہا ڈپٹی صاحب آئے تو اس لئے ہیں کہ ان لوگوں کو زراعت کی ترقی کے راز بتائیں مگر حال یہ ہے کہ زمیندار ان سے ڈر کے مارے بات بھی نہیں کر سکتے۔تو میں نے کہا تھا گورنمنٹ کو ایسے افسروں کی بجائے ایسے افسر اس ملک میں بھیجنے چاہئیں جن سے اس ملک کے باشندے فائدہ حاصل کر سکیں اور اپنے ملک کی زراعت کو ترقی دے سکیں۔اس وقت اس تجویز کو اتنی اہمیت نہ دی گئی لیکن اب دو سال بعد گورنمنٹ اس بات کی طرف جھکی ہے اور ایک کمیشن بٹھایا ہے جس نے اپنی رپورٹ میں یہی کہا ہے جو میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا۔حتی کہ وزیر ہند نے بھی اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اس ملک کے لئے ایسے ر مقرر کئے جائیں جن سے رعایا فائدہ حاصل کر سکے اور اس ملک کی زراعت کو ترقی ہو سکے۔غرض جو جو تدبیریں میں نے بتائی تھیں وہی آخر درست ثابت ہوئیں۔پس صحیح تدبیر بھی خدا