خطبات محمود (جلد 10) — Page 201
201 لئے دعا کرنا فضول ہے۔یا یہ کہ خدا کی منشاء کچھ اور ہے۔اگر ایک شخص پر کوئی بات کھول دی جائے کہ خدا تعالیٰ کی غشاء فلاں امر کے متعلق یہ نہیں۔تو پھر اس کے متعلق دعا نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ اگر پھر بھی اس کے متعلق دعا کی جائے گی تو بے ادبی ہوگی۔لیکن اگر اس دعا میں کوئی نقص نہ ہو گا اگر اس کے شرائط پورے کئے جائیں گے۔اگر اس کے ساتھ ایمان یقین اور امید ہوگی تو وہ قبول ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان ان تدابیر کو بھی نہ چھوڑے جو انسانی اختیار میں ہیں۔غرض وہ سب باتوں کو پورا کرتا ہوا دعا مانگتا چلا جائے اور چھوڑے نہیں جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے چھوڑنے کا حکم نہ ہو جائے۔اسی طرح دعاؤں کے ساتھ تدابیر بھی اختیار کرے اور تدابیر کو بھی اس وقت تک نہ چھوڑے جب تک خدا تعالیٰ حکم نہ دے دے کہ اب تمہیں کوئی تدبیر نہیں کرنی چاہئے۔کیونکہ بعض وقت خدا تعالیٰ اظہار قدرت کے لئے اپنے بعض بندوں کے ساتھ اس قسم کے سلوک کرتا ہے کہ انہیں تدابیر سے روک دیتا ہے۔تو تدابیر کا دعا کے ساتھ ساتھ ہونا از حد ضروری ہے اور جو شخص ان کو چھوڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ایسے شخص کی دعا اس کے منہ پر ماری جاتی ہے کیونکہ دعا کے ساتھ تدابیر کا اختیار نہ کرنا خدا کا قانون توڑنا اور اللہ تعالیٰ کا امتحان لینا ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ بندے اس کا امتحان لیں۔یہ تو میں نہیں کہتا کہ مسلمان دعائیں نہیں کرتے۔اگرچہ دعائیں کرنے والے ان میں کم ہیں مگر جو بھی دعائیں کرتے ہیں ان کی دعاؤں کا قبول نہ ہونا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یا تو دعا کے متعلق ان کے یقین میں کمی ہے یا ان کے ایمان میں کمی ہے یا ان کے استقلال اور اصرار میں کمی واقع ہو گئی ہے یا جو تدابیر وہ کرتے ہیں ان میں نقص ہے یا جو تدابیر اس دعا کے لحاظ سے مقرر ہیں ان کے اختیار کرنے اور ان کے استعمال کرنے میں کوئی نقص ہے۔اور جب ایک شخص اس ساری کیفیت پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ایمان میں بھی کمی آگئی ہے مسلمانوں کے یقین اور امید میں بھی کمی آگئی ہے۔مسلمانوں کے عجز و انکسار میں بھی کمی آگئی ہے۔مسلمانوں کے استقلال اور اصرار میں بھی کمی آگئی ہے اور ان شروط کے پورا کرنے میں بھی کمی آگئی ہے۔جو دعا کے لئے ضروری ہیں۔اور ان تدابیر کے اختیار کرنے میں بھی کمی آگئی ہے جو دعا کے ساتھ اختیار کرنی ضروری ہیں۔ان لوگوں کا خدا پر ایمان نہ ہونا تو ظاہر ہی ہے۔یہ موٹی بات ایک غیر احمدی کی سمجھ میں آنی تو