خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 189

189 کہ وہ طریق اختیار کرتے ہیں تو دوسروں کے متعلق اعتراض اس اعتراض کے بالمقابل کوئی معنی نہیں رکھتا جو میری ذات پر کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ میں جماعت کا زمہ دار ہوں اور ایسے لوگ اپنے اپنے نفوس کے۔مگر باوجود اس کے میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ انہیں اس بات پر یقین کر لینا چاہئے کہ سخت کلامی بد اخلاقی ہوتی ہے اور ٹھوکر کا باعث بنتی ہے۔اور نرمی عمدہ اخلاق سے ہے اور لوگوں کی توجہ کا سبب ہوتی ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے احباب اپنی ہر بات میں نرمی اور سلوک پیدا کریں۔اسلام کا حکم نرمی ہے سختی ٹیکہ کی مانند ہے یا اپریشن کی طرح۔وہ اصل علاج نہیں۔اصل علاج نرمی ہے پس اسے اختیار کرو۔اور ایسے بن جاؤ کہ یہ خود بخود بطور نمونہ کے تمہیں پیش کرے۔گلیوں میں چلتے ہوئے یہ نمونہ ظاہر ہو۔کسی کو شکوہ نہ ہو کہ گالی دی۔کسی کو گلہ نہ ہو کہ سختی کی۔اور اگر یہ نہیں تو دلوں میں سوچو کہ پھر دنیا میں کیا پیش کرنا چاہتے ہو۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ نمونہ پیدا کرد دشمن تو کہتا ہے کہ تم میں نرمی نہیں۔لیکن میں اپنے طور پر بھی کہتا ہوں کہ ایک حد تک یہ ہم میں نہیں۔اس لئے چاہئے کہ سب دوست اسلام کی تعلیم کے مطابق نرمی پیدا کریں اور اسلام کی تعلیم سے تو از خود نرمی پیدا ہوتی ہے۔اور اگر ہم یہ نہیں کرتے تو کون بیوقوف ہے جو ان باتوں کو مان لے۔جو ہم کہتے ہیں۔وہ تو ہم کو پاگل کے گل۔یا مسخرہ سمجھے گا۔اس لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اپنے کلام میں نرمی پیدا کرو۔اور اپنے اخلاق اور معاملات میں حسن و خوبی پیدا کرو جب تک یہ نہیں تب تک اسلام کی ترقی نہیں۔اور اگر ہو بھی تو میرے نزدیک وہ ترقی نہیں۔ہم جو کچھ لوگوں کو کہتے ہیں وہ اگر لفظی طور پر مان بھی لیں تو بھی کیا ہے۔صرف ناموں کے بدلنے سے کیا ہوتا ہے۔عیسائی اگر نہ کہلایا مسلمان کہلا لیا۔اس میں کیا دہرا ہے۔جب تک روحانیت کے کوئی مدارج نہ ہوں۔اور جب تک یہ نہ ہوں کوئی ترقی بھی نہیں ہوتی۔بلکہ یہ بات زیادہ نقصان کا باعث ہے۔کیونکہ جب تک انہوں نے نام نہیں پایا۔تب تک تو ان کو تڑپ اور جوش تھا کہ ہم یہ پائیں اور جب نام پالیں گے تو تمام کوششیں چھوٹہ دیں گے۔اور بجائے اس کے کہ وہ دن ہمارے لئے فتح کا دن ہو ہمارے لئے شکست کا دن ہو گا۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ روح عمل پیدا کرد روحانیت کے مدارج پر چلو اور اپنے آپ کو نمونہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرو۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اخلاق کے درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور معاملات میں حسن و خوبی کی۔ہم میں نرمی پیدا ہو۔اور سختی بالکل نہ ہو۔ہم دنیا کے لئے نمونہ بن کر