خطبات محمود (جلد 10) — Page 160
160 موعود علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم کو پھیلایا جائے۔اگر کوئی اس کے متعلق گھبراتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ تعلیم نہیں پھیل سکے گی۔تو اس کے ایمان اور یقین میں کمزوری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود کو اس وقت بھیجنا بتاتا ہے کہ یہی وقت اس تعلیم کے پھیلنے کا ہے۔یہ چار چیزیں ہیں جو ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ان میں سے دو خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہیں اور دو ہمارے سپرد کی ہیں وقت کا انتخاب اور سچی تعلیم بھیجنا خدا نے اپنے ذمہ رکھا ہے اور یہ دونوں باتیں اس نے پوری کر دی ہیں۔باقی دو ہمارے ذمہ ہیں یعنی اچھی زمین تلاش کرنا اور جو تعلیم قبول کریں ان کی غور و پرداخت کرنا انہی میں ہماری ستی کی وجہ سے جماعت کی ترقی میں روک پیدا ہو رہی ہے۔ورنہ اور کوئی وجہ نہیں ہے۔یہ کہنا کہ ابھی اس تعلیم کی اشاعت کا وقت نہیں آیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کام لوگ نہیں کرنا چاہتے جس طرح وہ اس کے متعلق کہہ دیتے ہیں۔ہماری قسمت اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی اشاعت کا وقت نہیں ہے۔لوگ اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔وہ اپنی سستی اور کو تاہی کی وجہ سے کہتے ہیں ورنہ یہ کہنا پڑے گا۔کہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بے وقت بھیجا۔اور آپ کے ذریعہ ناقص تعلیم دی۔مگر یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے۔کیونکہ ان کے قلب کی زمین بگڑی ہوئی ہے۔ایسے قلب پر اگر اچھی تعلیم بھی پڑے تو بھی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔دیکھو حضرت عمرؓ کا ایک وقت وہی دل تھا کہ جس پر جب قرآن کریم کی تعلیم پڑتی تو تے ہو جاتی مگر پھر وہی دل تھا کہ اس نے اس طرح اس تعلیم کو قبول کیا جس طرح قبول کرنے کا حق تھا تو دل بدل سکتا ہے اور بدلا جا سکتا ہے۔جس طرح زمین بری سے اچھی اور قابل زراعت بنائی جا سکتی ہے۔اسی طرح دل بھی حق کو قبول کرنے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے اندر طاقت اور مادہ پیدا کیا ہے۔کہ ہم دل کو بدل دیں آگے قصور ہمارا ہے کہ ہم کام نہیں کرتے یا تعلیم و تربیت کی وجہ سے نقص ہے۔اور ہم نے جماعت تک وہ باتیں ابھی تک نہیں پہنچائیں جن کا پہنچانا ضروری ہے۔میں سب احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ امور جو ہمارے ذمہ ہیں ان کو پورا کریں اور مجھے امید ہے دوست رات دن کوشش کر کے ان کو پورا کریں گے۔قلوب کی اصلاح ہو جائے اور تعلیم و تربیت بھی صحیح طور پر ہو تاکہ خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا بیج پھل لاوے اور ایسی غذا پیدا ہو کہ اسے کھا کر انسان کا تعلق شیطان سے منقطع ہو جائے۔اور ایسا اثر ہو کہ کوئی بدی اثر نہ کر سکے۔اور کوئی نیکی