خطبات محمود (جلد 10) — Page 159
159 چونکہ دوسری جماعتوں کے لوگ بھی اس موقعہ پر آئے ہوئے ہیں۔اس لئے ان کو بھی ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے سامنے اتنا عظیم الشان کام ہے جتنا آج تک کسی قوم کا نہیں ہوا۔ہماری جو منزل مقصود ہے وہ اتنی دور ہے جتنی اور کسی کی نہیں اور ہماری جو تمنا ہے وہ اتنی اعلیٰ ارفع اور اتنی بلند ہے جتنی اور کسی کی نہیں پس اگر اتنے عظیم الشان کام کے لئے ہم خاص تیاری نہ کریں۔اتنی لمبی اور اتنی دور کی منزل مقصود کے لئے سستی سے قدم اٹھائیں اتنے بڑے مقصد اور مدعا کے لئے پوری ہمت سے کام نہ لیں تو سمجھ لو کیسے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔پس میں تمام جماعتوں سے کہتا ہوں کہ جماعت کی صحیح تربیت کی طرف پوری پوری توجہ کریں۔اگر جماعت میں سے ایک شخص بھی ست اور غافل ہو جاتا ہے تو وہ طاعون کے کیڑے سے زیادہ جماعت کے لئے زہریلا اور نقصان دہ ہوتا ہے۔کیونکہ طاعون کے کپڑے کا زہر اس قدر نہیں پھیلتا جس قدر ایسے شخص کا زہر پھیلتا ہے۔پس ایک آدھ آدمی کی سستی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وہ ڈاکٹر ڈاکٹر کہلانے کا مستحق نہیں ہے جو بیماری کے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔میں نے طاعون کے کیڑوں کے متعلق خود تو تحقیقات نہیں کی۔لیکن ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک منٹ میں کئی ہزار گنا بڑھ جاتے ہیں۔یہی ایمان کو کھانے والے کیڑے کا حال ہوتا ہے۔جب ایک میں پیدا ہوتا ہے تو پھر آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے ایک سچا اور حقیقی کار کن وہی ہے جو اگر ایک شخص میں بھی سستی اور کو تاہی دیکھتا ہے تو اسے اس وقت تک چین نہیں آتا۔جب تک اس کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو جاتا۔اگر اس کا جماعت سے کاٹنا ہی ضروری ہوتا ہے تو کاٹ دیتا ہے۔تاکہ اس کا زہر دوسروں میں نہ پھیلے چوتھی چیز موزوں اور مناسب وقت ہے۔یہ خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے۔اور اس نے نبی بھیج کر فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ وقت یہی ہے اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس زمانہ میں احمدیت پھیل نہیں سکتی۔نادان ہیں جو کہتے ہیں آجکل احمدیت کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔اگر یہ درست ہے۔تو پھر خدا تعالی پر الزام آئے گا کہ اس نے حضرت مسیح موعود کو بے وقت بھیجا کیوں کبھی نہ ہو گا کہ کوئی باغ والا ہو وہ جن کو باغ ٹھیکہ دے ان سے آم کی جنس کا اس وقت مطالبہ کرے جب آم کا موسم نہ ہو۔ہمارے ملک میں آموں کا زور جون جولائی میں ہوتا ہے۔اس وقت باغ کے مالک آم کی جنس کا مطالبہ کریں گے۔پھر خدا کس طرح اس چیز کا مطالبہ کر سکتا ہے۔جس کے لئے دنیا تیار نہ ہو۔پس اس وقت خدا تعالیٰ نے نبی بھیج کر بتا دیا کہ عین یہی وقت ہے جب حضرت مسیح