خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 129

129 رو۔جب جلاد اسے قتل کرنے لگے۔اور اس کی گردن پر کئی تلواروں کے وار کئے تو اسے ذرا بھی گزند نہ پہنچی۔اور ذرا بھی گردن نہ کئی۔اس پر بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ تلواریں اس کی گردن نہیں کٹ سکتیں بادشاہ نے کہا اگر اس کی گردن ایسی ہی ہے کہ تلواروں سے نہیں کٹ سکتی تو اسے پھانسی دے۔لیکن جب پھانسی پر چڑھایا گیا تو پھانسی بھی اس پر کوئی اثر نہ کر سکی۔اس کی اطلاع بادشاہ کو دی گئی۔تو اس نے کہا کہ اچھا آگ میں ڈال دو مگر آگ نے بھی اس کا کچھ نہ بگاڑا پھر کہا گیا اسے اونچے پھاڑے گرادو۔لیکن پھاڑ سے گرانے پر وہ اس طرح لڑھکتا ہوا نیچے آپہنچا گویا کھیل رہا ہے۔پھر کہا گیا اسے وزنی پتھر باندھ کر پانی میں پھینک دو۔لیکن جب پھینکا گیا تو وہ پانی پر اس طرح تیرنے لگا جس طرح کارک تیرتا ہے۔آخر بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا کر کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چور سمجھ کر سزا دینی چاہی۔تم تو بڑے باکرامت انسان ہو۔اس نے کہا ہوں تو میں چور ہی مگر بات یہ ہے کہ میں ایک ایسی دعا جانتا ہوں کہ جتنے انبیاء گذر چکے ہیں ان کی نیکیوں کے برابر نیکیاں ایک دفعہ اس کے پڑھنے سے حاصل ہو جاتی ہیں۔اسی طرح خواہ کوئی کتنے گناہ کرے۔ایک دفعہ پڑھ لینے سے سب دور ہو جاتے ہیں اور کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔میں وہ دعا پڑھا کرتا ہوں۔تو نادانوں کی یہ دعا نکالی ہوئی ہے اگر لیلتہ القدر بھی اسی کی طرح ہو کہ خواہ کوئی ڈاکہ ڈالے چوری کرے، قتل کرے انبیاء کو گالیاں دے، شریعت کے کسی حکم پر عمل نہ کرے۔لیکن اس رات دعا مانگ لے تو انبیاء کی دعائیں رد ہو جائیں مگر اس کی دعا رد نہ ہو گی۔تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ پھر کسی کو نیک اعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مثلاً ایک شخص اس رات یہ دعا مانگ لے کہ میں جو چاہوں کروں لیکن جاؤں جنت کے سب سے اعلیٰ مقام میں اور اعلیٰ درجہ میں اور یہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔تو پھر خواہ وہ کچھ کرے جنت میں ہی جائے گا۔مگر یہ بات اسلام کی تعلیم اور اسلام کے مغز کے قطعاً خلاف ہے۔پس رسول کریم اس نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس رات میں ایک خاص گھڑی ہوتی ہے جب کہ برکات نازل ہوتی ہیں۔اور خصوصا " جمعہ کی رات کو اس سے بڑا تعلق ہے تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ اس گھڑی میں خواہ کوئی دعا کی جائے خدا تعالیٰ کو ضرور منظور کرنی پڑتی ہے۔اور وہ اسے رد نہیں کر سکتا۔بلکہ اس کے لئے کچھ حد بندی کرنی پڑے گی۔جس کے ماتحت اس وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ حد بندیاں کیا ہیں۔وہی ہیں جو شفاعت کے متعلق ہیں۔یعنی ایک ایسا شخص جو کوئی ایسی چیز مانگتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت دی جاسکتی ہے لیکن بعض عارضی روکیں پیدا ہو گئی ہیں جو امکان قدرت سے تعلق نہیں رکھتیں یا اس انسان