خطبات محمود (جلد 10) — Page 128
2 14 لیلتہ القدر کی تلاش (فرموده ۹ اپریل ۱۹۳۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے۔اور اس آخری عشرہ کے متعلق رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔اس کے اندر ایک ایسی رات ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں خاص طور پر سنتا ہے۔اس رات میں اس کے بندے جو کچھ طلب کرتے ہیں۔وہ دیتا ہے۔اور جو چاہتے ہیں۔وہ پورا کرتا ہے۔اور آپ نے اس کے متعلق فرمایا ہے۔رمضان کے آخری عشرہ میں اسے تلاش کرو اے گو جیسا کہ میں پہلے کئی دفعہ بتا چکا ہوں۔یہ ضروری نہیں کہ آخری عشرہ میں ہی وہ رات آئے۔لیکن رسول کریم ﷺ کے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے۔اور بعد میں آنے والے صلحاء اور اولیاء اللہ کے تجربہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات بالعموم آخری عشرہ رمضان میں آتی ہے۔اس رات کے برکات بہت سے اولیاء نے خود مشاہدہ کئے ہیں۔اور اپنی روحانی آنکھوں سے انوار کو آسمان سے اترتے دیکھا ہے۔جو انوار ایک دم میں تاریک دن کو نورانی بنا دیتے ہیں۔اور متفکر انسان کو تمام دنیا میں سب سے زیادہ خوش کر دیتے ہیں۔یہ تو ایک منٹ کے لئے بھی کبھی خیال نہیں کیا جا سکتا کہ رسول کریم ﷺ کا منشاء یہ ہے کہ اس گھڑی میں جو رمضان کے آخری عشرہ کی کسی رات میں آتی ہے جو آدمی جو کچھ بھی مانگے وہ اسے مل جاتا ہے۔کیونکہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے۔تو پھر دین کے معاملہ میں امن و امان اٹھ جاتا ہے۔اور لیلتہ القدر اس دعائے گنج العرش کی طرح رہ جاتی ہے۔جس کے متعلق جاہلوں میں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ وہ ایسی دعا ہے۔جس سے انسان جو چاہے حاصل کر سکتا اور ہر قسم کی تکلیف سے بچ سکتا ہے۔اور پھر ایسی دعا کا پتہ بھی چور کے ذریعہ لگا ہے نہ کسی ولی اور بزرگ کے ذریعہ کہتے ہیں ایک چور تھا جس نے کئی خون کئے بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا لیکن