خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 66 of 703

خطبات نور — Page 66

66 ہم آپ بیتی ہی کیوں نہ سنائیں۔اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کی کھانے اور پینے کی چیزیں آتی ہیں۔قوائے شہوانی کی سیری کا سامان موجود ہوتا ہے۔سیر ہو کر ان کو ترک کر دیتے ہیں۔اس وقت ایسا معلوم دیتا ہے کہ گویا ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ابھی تھوڑا وقفہ نہیں گذرتا کہ وہی بھوک، وہی پیاس وہی شہوانی خواہشیں موجود ہوتی ہیں۔ابھی بہت عرصہ نہیں گذرا کہ سردی کے واسطے گرم کپڑوں کی ضرورت تھی اور بڑی محنت اور صرف سے کپڑے تیار کرائے تھے مگر اب وہی ہم ہیں اور وہی کپڑے، لیکن ان کپڑوں کو اب رکھ نہیں سکتے۔ضرورت آپڑی ہے کہ نئی طرز کے کپڑے ہوں جو اس موسم کے حسب حال ہوں۔غرض یہی حال حضرات انسان کا ہے۔قسم قسم کی غذا ئیں اندر پہنچ کر صرف اپنا خلاصہ در خلاصہ چھوڑ کر پاخانے کی شکل میں نکل جاتی ہیں اور پھر انہیں غذاؤں کی ضرورت اور انہیں خلاصوں کی احتیاج پیدا ہوتی رہتی ہے۔یہی مضمون اور مفہوم ہے تجدید دین کا۔اس وقت بھی دیکھ لو اور غور سے دیکھ لو کہ کس قدر ضرورت ہے کہ کوئی مرد خدا آوے اور ہماری گم شدہ متاع کو پھر واپس دلائے۔بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس کا گھر لوٹا جا رہا ہو اور وہ میٹھی نیند سو رہا ہو اور خواب میں جنت کی سیر کر رہا ہو اور خوبصورت عورتیں اس کے گرد ہوں اور وہ اس نیند سے اٹھنا ایک مصیبت خیال کرتا ہو۔یہی حال اس وقت اسلام کا ہو رہا ہے۔دشمن نے چاروں طرف سے اس کا محاصرہ کر لیا ہوا ہے اور بعض اطراف سے در و دیوار کو بھی گرا دیا ہے۔قریب تھا کہ وہ اندر داخل ہو کر ہمارے ایمان کی متاع لوٹ لے کہ ایک بیدار کرنے والے کی آواز پہنچی۔یا تو ہمیں اپنے دکھ اور مصیبت کی خبر نہیں ہے اور یا خبر تو ہے مگر ہم پوری لا پروائی سے کام لے رہے ہیں۔ہمارے سید و مولی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ایک دعا تعلیم فرمائی ہے۔میں بہت ہی خوش ہوں کہ ہمارے امام علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو قریباً فرض قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے اللَّهُمَّ اِنّى اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ (بخارى كتاب الدعوات)۔بجز کیا ہے؟ کہ اسباب ہی کو مہیانہ کر سکے اور کسل یہ ہے کہ اسباب تو مہیا ہوں لیکن ان سے کام نہ لے سکے۔کیسا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو اسباب کو مہیا نہیں کرتا اور وہ انسان تو بہت ہی بد قسمت ہے جس کو اسباب میسر ہوں لیکن وہ ان سے کام نہ لے۔اب میں تمہیں توجہ دلانی چاہتا ہیں گھر کی حالت پر۔تمہیں یا مجھے یا ہماری موجودہ نسلوں کو وہ وقت تو یاد ہی نہیں جب ہم اس ملک کے بادشاہ تھے۔سلطنت