خطبات نور — Page 654
654 کرتا ہے۔ان باتوں کا اصل الاصول یہی ہے کہ اللہ کی تعظیم اور اللہ کی مخلوق پر شفقت۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے متعلق تمام انبیاء سے اللہ نے عہد لیا۔چنانچہ انہوں نے آپ کے ظہور کی پیشگوئیاں کی ہیں۔یہ پیشگوئیاں تصدیق طلب تھیں۔رسول اللہ کے آنے سے ان کی تصدیق ہو گئی۔پھر جو علوم الہیہ دنیا میں آئے تھے اور ان میں غلطیاں پڑ گئی تھیں، غلطی دور کر کے صحیح کو صحیح طور پر ہمیں پہنچا دیا۔بلکہ کچھ اور نئی باتیں بھی ہیں اور وہ باتیں مدلل ہیں۔غرض کھلی کھلی باتیں بتائیں۔بد عمد ان باتوں کو ناپسند کرتے ہیں۔دیکھو! تم لوگوں نے بھی اپنے اللہ سے بہت سے عمد کئے ہیں۔سب سے بڑا عہد تو یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔یعنی اے مولیٰ ! ہم تیرے فرمانبردار رہیں گے۔ایک عہد کا ذکر الحمد میں آتا ہے جسے پڑھ کر میرے جیسا آدمی تو غش کھا جائے۔وہ اقرار یہ ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔جس وقت تم یہ کلمہ منہ سے نکالتے ہو، ذرا اپنے دن رات کے اعمال پر نظر ثانی کرو کہ آیا ہمارے دن رات کا چال و چلن اس کے مطابق ہے؟ میرے منہ سے جب یہ کلمہ نکلتا ہے تو مجھے شرمندہ کر دیتا ہے۔غرض عملی طور پر بہت لوگوں نے ان باتوں کو چھوڑ دیا ہے۔جب خدا کا رسول آیا تو انہوں نے بجائے متنبہ ہونے کے اللہ کی کتاب کو ایسا پھینکا کہ خبر نہیں۔مسلمان اپنی حالت پر غور کریں۔کتنے ہیں جو قرآن سنتے ہیں۔پھر کہتے ہیں جو سن کر سمجھتے بھی ہیں۔پھر کتنے ہیں جو سمجھ کر عمل بھی کرتے ہیں۔اللہ کی کتاب چھوڑنے کی وجہ کیا ہے؟ غیر اللہ سے محبت کہ اس کی محبت میں سب کچھ بھول کر پھر خدا کی کتاب تک نہیں سنتے اور دوسری عداوت۔عداوت ہیں لگے ہوئے انسان کو فرصت نہیں ہوتی کہ اللہ کی کتاب سوچے سمجھے۔سمجھے تو جب کہ اسے توجہ ہو اور توجہ جب ہو کہ فارغ البال ہو۔بے جاعداوت، بے جا محبت میں گرفتار انسان کتاب اللہ کب سمجھ سکتا ہے۔وہ تو اور ہی دلربا باتوں کے نیچے پڑا ہوا ہے۔ایک طالبعلم سے مدرسے کا کورس ہی ختم نہیں ہوتا۔وہ قرآن کس وقت پڑھے۔اسی طرح مَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْن (البقرۃ:۱۳۳) یہ ایک علم تھا جس کے ذریعے بنی اسرائیل کو بابلیوں کے ظلم سے نجات دی تھی۔دوستوں کو چاہئے کہ جس چیز سے محبت رکھیں ایک حد تک رکھیں اور جس سے عداوت رکھیں ایک ر تک رکھیں۔خدا کی کتاب کو بھول نہ جائیں۔الفضل جلد نمبر۲۹---۳۱؎ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۲)