خطبات نور — Page 641
641 ہیں اور بعض پرستش اور پوجا کے کرتے ہیں۔اس کے کئی ارکان ہیں۔اللہ تعالیٰ کی بے نظیر تعظیم، اس کی تعظیم کرے اور کسی کی نہ کرے۔مثلاً ہاتھ باندھنے۔اس کے آگے جھکنا (رکوع)۔اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔حج کرنا۔روزے رکھنا۔اپنے مال میں سے ایک حصہ اس کے لئے مقرر کر دینا۔اٹھنے بیٹھنے میں اسی کا نام لینا۔آپس میں ملتے وقت اس کا نام لینا جیسے السلام علیکم و رحمتہ اللہ اور اس کی تعظیم میں قطعا دوسرے کو شریک نہ کرنا۔دو سرار کن۔اس کی محبت کے مقابلہ میں کسی دوسرے سے محبت نہ کرنا۔تیرار کن۔اپنی نیازمندی اور عجز و انکساری کامل طور پر اس کے آگے ظاہر کرنا۔چوتھا رکن یہ ہے کہ اس کی فرمانبرداری میں کمال کر دے۔ماں باپ، محسن و مربی، بھائی بہن رسم ورواج اس کے مقابلہ میں کچھ نہ ہوں۔لَا تَجْعَلُو اللَّهِ أَنْدَادًا (البقرة :٢٣) اَلا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ (هود:۳) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔بعض روپیہ سے محبت کرتے ہیں۔جو لوگ چوری، جھوٹ دعا سے کماتے ہیں وہ اللہ سے نہیں بلکہ روپیہ سے محبت کرتے ہیں۔کیونکہ اگر اس کے دل میں خدا کی محبت ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتا۔اس سے اتر کر ماں باپ کے ساتھ احسان ہے۔بڑے ہی بد قسمت وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ دنیا سے خوش ہو کر نہیں گئے۔باپ کی رضامندی کو میں نے دیکھا ہے۔اللہ کی رضامندی کے نیچے ہے اور اس سے زیادہ کوئی نہیں۔افلاطون نے غلطی کھائی ہے۔وہ کہتا ہے ہماری روح جو اوپر اور منزہ تھی ہمارے باپ اسے نیچے گرا کر لے آئے۔وہ جھوٹ بولتا ہے۔وہ کیا سمجھتا ہے روح کیا ہے ؟ نبیوں نے بتلایا ہے کہ یہاں ہی باپ نطفہ تیار کرتا ہے پھر ماں اس نطفے کو لیتی ہے اور بڑی مصیبتوں سے اسے پالتی ہے۔نور بینے پیٹ میں رکھتی ہے بڑی مشقت ہے۔حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا (الاحقاف) اسے مشقت سے اٹھائے رکھتی ہے اور مشقت سے جنتی ہے۔اس کے بعد وہ دو سال یا کم از کم پونے دو سال اسے بڑی تکلیف سے رکھتی ہے اور اسے پالتی ہے۔رات کو اگر وہ پیشاب کر دے تو بسترے کی گیلی طرف اپنے نیچے کر لیتی ہے اور خشک طرف بچے کو کر دیتی ہے۔انسان کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ یہ بھی میں نے اپنے ملک کی زبان کے مطابق کہہ دیا ورنہ باپ کا حق اول ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہئے سے بہت ہی نیک سلوک کرے۔تم میں سے جس کے ماں باپ زندہ ہیں وہ ان کی خدمت کرے اور جس کے ایک یا دونوں وفات پاگئے ہیں، وہ ان کے لئے دعا کرے۔صدقہ دے اور خیرات کرے۔4