خطبات نور — Page 631
631 صحیح ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بالکل غلط)۔میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ تم فساد ڈلواتے ہو۔کہتے ہیں کہ قاضی حبیب اللہ ہے۔دو شخص اور ہیں۔ہم نہیں جانتے۔جب وہ ہمارے سامنے آتے ہیں تو وہ مخلص اور فرمانبردار ہی معلوم ہوتے ہیں۔پھر وہ کہتا ہے کہ دیوث کہا ہے۔وہ شریر النفس ہیں۔وہ بار بار لکھتے ہیں کہ الفضل جھوٹ لکھتا ہے اور تم جھوٹ بولتے ہو۔اور ہم کہتے ہیں کہ تم ہماری اصلاح کے لئے یہاں نہیں آئے۔اگر تم کو ہماری مجلس بہت گند سکھاتی ہے تو مہربانی کر کے اپنے گھر تشریف لے جاؤ۔اگر تم کو بلائیں تو جھوٹے۔میں نے سوائے اس غرض کے کبھی قرآن شریف نہیں سنایا کہ تم اس سے کچھ فائدہ اٹھاؤ۔سو اگر تم قرآن سیکھنے آئے ہو تو سیکھو۔میں دنیا کا محتاج نہیں۔میں نے مکان بیٹے کے لئے بنوایا۔میں نے کسی سے نہیں کہا کہ دعا کرو یا روپیہ دو۔نہ دل میں نہ ارادہ میں۔میری ایک دکان ہے۔خوب کماتا ہوں۔اگر قرآن کے لئے آؤ تو قرآن سیکھو۔میں لڑائی کو پسند نہیں کرتا۔کمال دین اچھا ہے۔وہ نیک کام میں ہے۔اگر کوئی غلطی اس سے ہو تو قدوس تو خدا تعالیٰ ہی ہے۔اس کے سوا کوئی پاک نہیں۔وہی ہر عیب سے پاک کمزوریوں اور نقصوں سے منزہ ، مستجمع جمیع صفات ہے۔وہ ایک نیک کام میں لگا ہوا ہے۔تم میں سے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر رہا۔غلطی کو رہنے دو۔نیکی کو لے لو۔وہ بار بار مجھ کو مطاع مطاع" لکھتا ہے۔پھر اگر ایک شریر النفس آدمی با وجود اتنی تصریح کے یقین نہیں کرتا تو میرا اور اس کا معاملہ خدا کے سپرد کرو۔خود فیصلہ ہو جائے گا۔باوجود ان باتوں کے لڑائی سے باز نہیں آتے۔کمال دین اپنی ذاتی غرض سے وہاں نہیں گیا۔اس کو اپنے بال بچوں تک کی پرواہ نہیں۔کسی نے لکھا ہے کہ کمال الدین کی ڈاڑھی کا صفایا ہوا ہوا ہے۔میں نے اگلے روز کمال الدین کی تصویر دیکھی ہے۔ڈاڑھی موجود ہے۔میرے نزدیک اگر ڈاڑھی منڈواتا بھی تو جس کام کے لئے گیا ہے اس کو تو اچھا کیوں گا۔اگر کوئی غلطی ہے تو میں خود چشم پوشی کرتا ہوں۔کوئی نہیں جس سے غلطی نہیں ہوتی۔ہم آدم کی اولاد سے ہیں۔اس کے لئے عَضى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى ظة :۳۲) رکھا ہوا ہے۔ہماری قوم روافض نہیں جنہوں نے اڑھائی مسلمان کو مان کر باقی صحابہ اور بیسیوں تک کو منافق کہا ہے۔خوارج نے بھی حد کر دی ہے۔گواہ رہو میں لا اله الا اللہ کہتا ہوں۔مرزا صاحب کو دعوتی میں راستباز یقین کرتا ہوں۔بعض مجھ کو منافق کہتے ہیں کہ لڑواتا ہے۔میں منافق نہیں ہوں۔منافق میں تین عیب ہوتے ہیں۔اول نہ تاب مقابلہ رکھتا ہے، نہ قوت فیصلہ اور ڈرپوک ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے ان تینوں سے بہت محفوظ کیا ہے۔قرآن کو کتاب اللہ سمجھتا ہوں۔مسلمان اس پر عمل کریں۔باقی جو