خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 628 of 703

خطبات نور — Page 628

628 ہے۔تین چوتھائی حصہ مسلمان ہیں۔چوہڑے مشترک ہیں۔نام مسلمانوں جیسے اور کچھ رسومات ہمارے اور کچھ ہندووں کے ادا کرتے ہیں۔سکھوں کے علاقہ کے چوہڑے کیس رکھتے ہیں اور نام نتھا سنگھ رکھ لیتے ہیں۔سنی، شیعہ ، ہندو، سکھ سب اکٹھے رہتے ہیں۔مذہبی غیرت اٹھ گئی۔لڑائی کہاں ہوئی تھی جب غیرت ہی نہ رہی۔ایک میرا استاد ہندو پنڈت تھا۔کہنے لگا کہ ہندو مسلمان تو دو مذہب ہوئے، مسیحی کہاں سے نکل آئے ؟ میں ہنس پڑا۔انہوں نے کہا کہ کیوں ہنس پڑے ؟ میں نے کہا کہ مسلمان ، عیسائی تو ملتے جلتے ہیں۔یہودی، مجوس قوم قدیم ہے۔کہنے لگا کہ شاید یہ لوگ چھپے ہوئے ہوں گے کسی ملک میں۔مذہب تو دوہی چلے آتے ہیں۔اب یہ تیرے لوگ ہیں۔گویا ان کے خیال میں مسیحی جدید قوم تھی۔ان کو کوئی خبرنہ تھی۔یہ ناواقفی کا سبب ہے۔تھا تو میرا واقعی استاد اب بھی ان کو استاد کہتا ہوں۔یہاں پر ہندو تو ہے ہی نہیں۔خیر میں حیرت میں رہا اور جواب دے دیا۔یہاں پر ذکر اس لئے کیا کہ فرعون جو تھا اس کے آباؤ اجداد گاؤ کی پرستش کرتے تھے۔اسکندریہ میں ایک لائبریری تھی۔اس کو بروچیم کہتے تھے۔برو چیم بیل کا نام ہے۔اس لائبریری کے آگے ایک بیل بنا ہوا تھالا ئبریری کی حفاظت کے لئے۔مورخوں کا اس میں اختلاف ہے کہ بنی اسرائیل مصر میں ڈھائی سو سال رہے یا چار سو سال۔خیر یہ تمہاری دلچسپی کی بات نہیں اور فرعون کے سر کا تاج بھی گئو موکھی کا تھا اور اس کا بڑا ثبوت قرآن سے یوں ملتا ہے کہ جب بنی اسرائیل وہاں سے آئے تو بار بن کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیر اثر تھے۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔گاؤ کو تو پہلے ہی مانتے تھے۔میں نے ایک ہندو سے پوچھا کہ گئو ماتا کا تو اس قدر ادب کرتے ہو۔اس کے خاوند (بیل) کی پرستش کیوں نہیں کرتے بلکہ بیل کو تو سارا دن جو تتے ہو۔انبیاء کو تو شرک سے نفرت ہی ہوتی ہے۔موسیٰ علیہ السلام کو بچھڑے کی پرستش بری لگی۔اس کا ذکر کسی خطبہ میں ہو چکا ہے۔یہاں مرض شرک کے علاج کا ذکر ہے۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ گاؤ کی قربانی کرو۔عادت بڑی بری بلا ہے۔لگے ایچ بیچ بنانے۔سیدھی بات تھی۔گائے ذبح کر دیتے۔ہمارے ایک شیخ المشائخ گزرے ہیں۔ان کا نام شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔سرہند ریاست پٹیالہ میں ہے۔ہمارے ہم قوم تھے۔وہیں پیدا ہوئے۔وہیں وفات پائی۔انہوں نے اپنی مکتوبات میں لکھا ہے کہ امراء و بادشاہ سب مل کر گائے کی قربانی کریں ورنہ مشکلات میں رہیں گے۔اب دیکھو ہندو گائے کی قربانی بند کرانا چاہتے ہیں۔ایسا کیوں ہوا؟ مسلمان بادشاہوں کی غفلت والا ہندو رسومات کا پابند نہیں۔