خطبات نور — Page 627
ر نومبر ۱۹۱۳ء 627 خطبه جمعه حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا ا تَتَّخِذُنَا هُرُ وا قَالَ اَعُوْذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجهلِينَ (البقرہ:۱۸) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔بعض لوگ ہمارے وعظ میں نہیں آتے حالانکہ یہاں رہتے ہیں۔دریافت پر کہا۔نور الدین ہماری نسبت ہمارے عیوب ظاہر کرتا ہے گو اشارہ سے ہو۔ایک اور سے دریافت کیا کہ بھٹی کیوں نہیں آتے؟ کہنے لگا کہ جو گناہ ہمارے وہم میں بھی نہیں ہوتے وہ تم بتلاتے ہو اور ہم اپنے زیر نظر لڑکوں کو نہیں بھیجتے۔اسی طرح ایک اور شخص سے پوچھا۔کہنے لگا کہ تمہارے درس میں ہوتا ہی کیا ہے؟ جو کہتے ہو وہ ہم بھی جانتے ہیں۔میں نے قرآن دیا کہ تم پڑھ کر ہی یہ مقام سنا دو۔میں تم سے معنے نہیں پوچھتا۔مگروہ پڑھ ہی نہ سکا۔اسی طرح جب واعظ وعظ کرتا ہے کئی لوگ اس کی حقیقت کو پہنچ جاتے ہیں اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔ہمارے نتھمال میں چوہڑے مصلی کہلاتے ہیں۔نمازیں پڑھتے ہیں مسجد میں بناتے ہیں ، نام فضل دین عبد اللہ رکھتے ہیں۔میں نے اپنے شہر میں دیکھا۔کثرت آبادی مسلمانوں کی