خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 616 of 703

خطبات نور — Page 616

616 پر تعلقات درست ہو گئے۔مگر پھر بغداد کا حال ہمیں معلوم ہے۔وہ محمود غزنوی جو خلیفہ کی الم السم سے ڈر گیا تھا اسی پایہ تخت کو ہلا کو اور چنگیز نے تباہ کر دیا۔ایک ہزار شخص جن پر سلطنت کے متعلق دعوئی کا گمان تھا ان سب کو دیوار میں چن دیا۔وہ بی بی جس کا نام نسیم السحر رکھا تھا ایک گلی میں اس حالت میں دیکھی گئی کہ کتے اس کا لہو چاٹ رہے تھے۔بے شک اللہ کے انعام بہت ہیں مگر اللہ کی پکڑ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔بنی اسرائیل کو فرعونیوں کا ظلم اور پھر اس سے نجات پانا یاد دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ فرعونی تمہیں طرح طرح کے عذاب دیتے تھے۔تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو ذلت کے لئے زندہ رکھتے یا ان کا ننگ و ناموس تباہ کرتے۔پھر ہم نے تمہارے لئے دریا کو جدا کیا اور تمہیں بچالیا مگر فرعونیوں کو غرق کر دیا۔میرا استاد تھا پٹھان۔قال اقول پڑھاتا۔اس میں ایک جگہ آتا ہے کہ زید دریا میں غرق ہوا۔اگر دریا نہ ہو تو غرق بھی نہ ہو۔میں نے اپنی سمجھ کے موافق یہ اعتراض کیا تھا کہ ہمارا فرعون ابو جہل تو جنگل ہی میں غرق ہو گیا تھا۔غرض اگر بنی اسرائیل کو یہ احسان یاد دلایا ہے تو مسلمانوں کے فرعون کو خشکی میں غرق کر کے اس کے بعد کئی انعامات ان پر کئے ہیں۔اب اگر وہ ناشکری کریں گے تو سزا پائیں گے۔جس طرح حضرت موسیٰ کو چالیس روز خلوت میں رکھا اسی طرح ہماری سرکار بھی غار حرا میں رہے۔وَيَتَحَنَّثُ (يَتَعَيَّدُ) فِيْهَا لَيَالِي ذَوَاتِ الْعَدَدِ ہماری سرکار پر ایسے ایسے انعام ہوئے کہ ہمیں مالا مال کر دیا۔بے شک اللہ کے بڑے بڑے احسان ہم پر ہیں مگر نبی کریم کے احسان بھی ہم پر بے شمار ہیں۔صرف دعا ہی کو لو کہ کس کس موقع پر سکھائی۔نکاحوں کے لئے استخارہ پھر بی بی کو گھر لانے پر ایک دعا ہے۔پھر پاس جانے کی ایک دعا ہے۔پھر بچوں کے پیدا ہونے کی ایک دعا ہے۔غرض حد ہی کر دی ہے۔حضرت موسیٰ کو کتاب اور فرقان عنایت فرمائی تو حضرت محمد رسول اللہ کو بھی ایک نور مبین، فِيْهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ (البينة:۳) کتاب عطا فرمائی۔حضرت موسیٰ کو فرقان بخشا تو ہمارے سید بادشاہ کا فرقان بدر کی جنگ میں ظاہر ہوا۔یہ اس لئے کہ ہدایت پاؤ۔پس مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غفلت کو چھوڑ دیں اور لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا إِيَّامًا مَّعْدُودَةً (البقرة) کہنے والے نہ بنیں کیونکہ خدا کسی قوم کا رشتہ دار نہیں۔نیکی کرو گے تو نیک جزا پاؤ گے۔الفضل جلد نمبر۱۷ ۸۰۰۰ / اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵)